کافر کون؟ — Page 106
106 11 - جنگ خیبر میں آپ صل للہ یہ الم نازل ہوئے۔قال الله اكبر خَرِبَتْ خيبرانا اذانزلنا بساحة قوم 12 - واقعہ ایلاء کے بعد آپ صلی ہے کہ تم نازل ہوئے۔فاقام في مشريةٍ تسعا وعشرين ليلة ثم نَزَل 13 - فتح مکہ میں آپ مسائی ایم نازل ہوئے۔قال مثل هذا ثلاث مرات ثم نزل ومشى إلى المروة 14 - حضرت ابن عباس نازل ہوئے۔مررتُ بين يدى بعض الصف فنزلت وارسلت الآثان مولانا لدھیانوی بتا سکتے ہیں کہ جب ایک لفظ ا فخر کائنات تاجدار مدینہ کے لیے لا خلفاء راشدین المہدین کے لیے حمد قیامت تک پیدا ہونے والی مسلمان امت کے لیے لا صحابہ رضوان اللہ یھم کے لیے یا حتی عیسائی رومی لوگوں کے لیے (10/5626 مشكوة جلد سوئم صفحہ 170 معجزات کا بیان ) (11/3110 عورتوں کے حقوق کا بیان جلد دوم صفحہ 94 لغت کی تمام کتب میں صدیوں سے ہر عام انسان کے لیے ( مشکوۃ جلد اول صفحہ 563 حجۃ الوداع کا بیان ) استعمال ہو تو کسی بھی جگہ معنی آسمان سے اترنا نہیں لیکن جب مسیح کے لیے استعمال ہو تو اس کا مطلب آسمان سے اترنا ہی ہوتا ہے۔کیوں؟ اور آخر کس وجہ سے اور کس شوق سے اتنا بڑا ظلم؟ یہ کیوں ہی میری دسویں پریشانی ہے۔بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام کا ایک سوال؟ اگر پوچھا جائے کہ اس بات کا ثبوت کیا ہے کہ حضرت عیسی اپنے جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے تھے تو نہ کوئی آیت پیش کر سکتے ہیں اور نہ کوئی حدیث دکھلا سکتے ہیں صرف نزول کے لفظ کے ساتھ اپنی طرف سے آسمان کا لفظ ملا کر عوام کو دھوکہ دیتے ہیں۔نزول کا لفظ محاورات عرب میں مسافر کے لیے آتا ہے اور نزیل مسافر کو کہتے ہیں۔چنانچہ ہمارے ملک کا بھی یہی محاورہ ہے کہ ادب کے طور پر کسی وارد شہر کو پوچھا کرتے ہیں کہ آپ کہاں