جوئے شیریں — Page 55
۵۵ سینہ میں جوش غیرت اور آنکھ میں حیا ہو لب پر ہو ذکر تیرا دل میں تری وفا ہو شیطان کی حکومت مٹ جائے اس جہاں سے حاکم تمام دنیا پر میرا مصطفے محمود عمر میری کٹ جائے کاش یونہی ہو رُوح میری سجدہ میں سامنے خُدا ہو نونہالان جماعت سے خطاب نونہالان جماعت مجھے کچھ کہنا ہے پر ہے یہ شرط کہ ضائع میرا پیغام نہ ہو چاہتا ہوں کہ کروں چند نصائح تم کو تا کہ پھر بعد میں مجھ پر کوئی الزام نہ ہو جب گزر جائیں گے ہم تم پہ پڑے گا سب بار شتیاں ترک کرو طالب آرام نہ ہو