جوئے شیریں — Page 43
۴۳ سمندر کی مچھلی۔ہوا کے پرندے گھر یلو چرندے بنوں کے درندے سبھی کو وہی رزق پہنچا رہا ہے مراک اپنے مطلب کی شے کھا رہا ہے وہ زندہ ہے اور زندگی بخشتا ہے وہ قائم ہے ہر ایک کا آسرا ہے دلوں کی چھپی بات میں جانتا ہے بروں اور نیکیوں کو پہچانتا ہے وہ دیتا ہے بندوں کو اپنے ہدایت دکھاتا ہے ہاتھوں پہ اُن کے کرامت ہے فریاد مظلوم کی سننے والا صداقت کا کرتا ہے وہ بول بالا گتا ہوں کو بخشش سے بٹھانپ لیتا غریبوں کو رحمت سے ہے تھام لیتا یہی رات دن اب تو میری صدا ہے یہ میرا خدا ہے یہ میرا خدا ہے