جوئے شیریں — Page 42
۴۲ هما را خُدا مری رات دن میں یہی اک دُعا ہے کہ اس کالم کون کا اک خدا ہے اُسی نے ہے پیدا کیا اس جہاں کو ستاروں کو سورج کو اور آسماں کو وہ ہے ایک اُس کا نہیں کوئی ہمسر وہ مالک ہے سب کا وہ حاکم ہے سب پر نہ ہے باپ اس کا نہ ہے کوئی بیٹا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا ہراک چیز پر اس کو قدر ہے، حاصل مراک کام کی اس کو طاقت ہے، حاصل پہاڑوں کو اس نے بھی کونچا کیا ہے سمندر کو اس نے ہی پانی دیا ہے یہ دریا جو چاروں طرف بہہ رہے ہیں اسی نے ہی قدر سے پیدا کئے ہیں