جوئے شیریں — Page 39
٣٩ I مجھ کو دے اک فوق عادت اے خدا بوش و تپش جس سے ہوجاؤں میں غم میں ہیں کے اک دیوانہ وار وہ لگا دے آگ میرے دل میں ملت کے لئے شکل پہنچیں جس کے ہر دم آسماں تک بے شمار اے خدا تیرے لئے ہر ذرہ ہو میرا خدا مجید کو دکھلاوے بہار دیں کہ جموں میں اشکبار اک کرم کر پھیر دے لوگوں کو فرقاں کی طرف نیز دے توفیق تا وہ کچھ کریں سوچ اور بیچار پیشہ ہے رونا ہمارا پیش رب ذوالمنن یہ شجر آخر کبھی اس نہر سے لائیں گے یار اے خدا اے کارساز و عیب پوش و کردگار اے مرے پیارے مرے محسن میرے پروردگار دوستی کا دکم جو بھرتے تھے وہ سب مٹھی بھوئے پر نہ چھوڑا ساتھ تو نے اے مرے حاجت برار