جوئے شیریں — Page 13
نظیر اس کی نہیں جمتی نظر میں فکر کہ دیکھا بھلا کیونکر نہ ہوسکیت کلام پاک جمال ہے بہار جاوداں پیدا ہے اس کی ہر عبارت میں ن وہ خوبی چین میں ہے نہ اس سا کھائی کہستاں ہے خدا کے قول سے قول بشر کیونکر برابر ہو وہاں قدرت یہاں درماندگی فرق نمایاں ہے بنا سکتا نہیں اک پاؤں کپڑے کا بشر ہرگز تو پھر کیونکر بنانا اور حق کا اس پہ آساں ہے ہمیں کچھ کیں نہیں بھا ئیو نصیحت ہے غریبانہ کوئی جو پاک دل ہوئے مل جہاں اُس پہ قرباں ہے نور فرقاں ہے جو سب ٹوروں سے اجیلی نکال پاک وہ میں سے یہ انوار کا دریا نکلا حق کی توحید کا مرتھا ہی چہ تھا پودا ناگہاں غیب سے یہ چشمہ اصفی انکلا