جذبۃ الحق

by Other Authors

Page 49 of 63

جذبۃ الحق — Page 49

49 میں نے جواب الجواب اس طرح لکھا کہ جناب کا عنایت نامہ پہنچا اور خاکسار نہایت محظوظ ہوا۔لیکن آپ نے جو تحریر فرمایا ہے کہ سات برس تک آپ نے مرزا صاحب کے ساتھ رو و قدح کی ہے۔اس سے مجھ کو بہت ہی تعجب ہوا۔کیونکہ مرزا صاحب تو کوئی مولانا مولوی نہیں ہیں اور نہ کسی نامی گرامی استاد سے انہوں نے علم حاصل کیا۔ایک ایسے شخص سے آپ نے سات برس تک نہ معلوم کیا کیا۔ہم لوگوں کا تو قاعدہ ہے کہ کوئی بے جا سر کشی کرتا ہے تو بس ایک دور سالے میں اس کو بند کر دیتے ہیں۔اور وہ ذلیل ہو جاتا ہے۔پھر اور سر نہیں اٹھا سکتا۔آپ اتنے بڑے فاضل بے بدل ہو کر مرزا صاحب جیسے مخص سے اس قدر مدت دراز تک کیا کرتے رہے۔میرے خیال میں یہ بالکل تضیع اوقات معلوم ہوتی ہے آپ لکھتے ہیں کہ سات جلد میں اشاعتہ السنہ" کی آپ کے پاس موجود ہیں اور قیمت اکیس روپیہ ہے نہ میں اس قدر روپیہ دے سکتا ہوں اور نہ مجھے اس قدر فرصت ہے کہ سات دفتروں کو پڑھوں۔میں فقط اس قدر چاہتا ہوں کہ آپ بتائیں اس سات برس کے عرصہ میں آپ نے کتنے مسائل میں مرزا صاحب کو شکست دی۔اگر ان میں سے فقط تین مسئلے بطور نمونہ کے آپ خاکسار کو بتائیں جن میں آپ نے بین طور پر حجت کی راہ سے مرزا صاحب کو مغلوب کیا۔اور ہزیمت دی ہو تب خاکسار بهت ممنون احسان ہو گا۔اور اسی سے میں کیفیت حال سمجھ لوں گا اور سات دفتروں کے الٹنے کی حاجت نہ ہوگی۔میرے اس خط کا جواب مولوی محمد حسین صاحب نے باوجود بار بار تقاضا کے نہ دیا۔اس وقت سے میں نے ان کی حقیقت سمجھ لی تھی۔ا مولوی محمد حسین کے پاس میرا جانا فقط دو مطلب کے لئے تھا۔ایک تو یہ مطلب تھا کہ فتویٰ تکفیر جو حضرت صاحب پر انہوں نے لکھا تھا۔اور بہت سے