جذبۃ الحق — Page 45
45 ہے جو اپنے خود قرار داده کافر کے استخوان بوسیدہ سے برکت حاصل کرنے کے لئے گئے تھے۔اس پر مولوی صاحب بہت ہی نجل ہوئے۔اور سرجھکا لیا۔پھر میں نے کہا کہ جناب نے ایک بات یہ بھی تو فرمائی تھی۔کہ مسیح اگر آئے گا تو دجال کو ہلاک کرنے کے لئے آئے گا دین و شریعت سے اس کو کچھ تعلق نہ ہو گا۔جناب نے تو صحیح بخاری ضرور دیکھی ہوگی اس میں تو نزول مسیح کی یہ حدیث لکھی ہے کہ كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيْكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنكُم اب فرمائیے کہ لفظ امام کے کیا معنی ہیں ؟ اگر آپ فرما دیں کہ امام کہتے ا ا ا ا ا آ آ امام ہیں ایسے ہونے جری پہلوان کو جو دجال جیسے عجیب الخلقت کو ہلاک کر سکے۔تو فرمائیے آپ کے امام ابو حنیفہ صاحب میں یہ صفت تھی یا نہیں۔اگر تھی تو ثابت کیجئے ورنہ ان کو آپ لوگ امام کیوں کہتے ہیں اور علاوہ اس کے صحیح سے تو آپ کے خیال میں وہی مسیح اسرائیلی مراد ہیں جو بنی اسرائیل کے آخری پیغمبر تھے۔یہ بزرگ رسول تو بہت ہی ضعیف اور کمزور آدمی تھے کہ فقط یہودیوں کے حملہ کی تاب نہ لاسکے اور تقریباً دو ہزار برس سے آسمان میں پناہ گزین ہیں کہ اس اثناء میں کبھی جرات نہ ہوئی۔کہ تھوڑی دیر کے لئے ایک مرتبہ پھر اس زمین پر آویں اور اس وقت تو محکم آیت کریمه و من نعمره تنكسه في الخلق کے کبڑے ہو چکے ہوں گے ایک ایسے آدمی کو اللہ تعالی نہ معلوم کس مصلحت سے دنیا میں بھیجے گا۔اور فعل الحكيم لا يخلوا عن الحكمة مثل مشہور کے خلاف ہو گا آمد اول میں ان سے کیا کار گذاری ایسی ہوئی تھی کہ پھر دوبارہ اللہ تعالی ان کو بھیجے گا۔ہاں اگر نزول رستم کی کوئی روایت آپ مجھ کو نکال کر دکھا سکتے تو البتہ میں بہت ہی ممنون ہوتا۔کیونکہ فردوسی نے شاہنامہ میں اس کی کارگذاری بہت لکھی ہے۔یہ سن کر مولوی عبدالحق صاحب بننے لگے۔