جذبۃ الحق — Page 43
43 شرعاً کیسا ہے مولوی صاحب نے جواب دیا کہ کفر ہے اور بڑا کفر ہے اس کے بعد میں نے بھی کچھ سوالات شروع کئے اور کہا کہ جناب والا ظهور مهدی و نزول صحیح کے بارے میں آپ کی کیا تحقیق ہے۔مولوی صاحب نے جواب دیا۔کہ مختلف احادیث میں ظہور مہدی اور نزول مسیح کی خبریں آئی ہیں۔لیکن چونکہ یہ حدیثیں اخبار احاد سے ہیں اس لئے ان پر مجھے یقین کامل نہیں ہے ہاں ظنی طور پر ہم ان دونوں کی آمد کے قائل ہیں اگر آئے تو فبہا اور اگر نہ آئے تو کچھ حرج نہیں کیونکہ ہمیں مہدی و مسیح کی کوئی ضرورت بھی نہیں۔ہم تو دین حق و شریعت نرالے کر بیٹھے ہیں اور قرآن کریم میں اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ یعنی 1 کامل کر دیا میں نے واسطے تمہارے دین تمہارا آگیا ہے پھر ہمیں مہدی و مسیح کی ضرورت ہے اگر کوئی مہدی بنے یا مسیح بنے۔بننے دیجئے۔ہمیں ان کی کچھ ضرورت نہیں۔اور یہ بھی فرمایا کہ اگر مسیح آوے گا تو دجال کو ہلاک کرنے کے لئے آوے گا۔دین و شریعت سے اس کو کوئی تعلق نہ ہو گا۔ان کی یہ باتیں سن کر میں نے دل میں کہا کہ یہ تو عجیب ہی قسم کے آدمی ہیں بہر حال ان کو کسی طرح لاجواب کرنا چاہئے۔آخرش کسی قدر نظر کے بعد میں نے کہا۔جناب بندہ آج ہی صبح کو ایک مرتبہ پہلے بھی جناب کے دولت کدہ پر حاضر ہوا تھا لیکن اس وقت معلوم ہوا تھا کہ آپ خواجہ قطب الدین صاحب کے مزار کی طرف تشریف لے گئے تھے مولوی صاحب نے فرمایا جی ہاں۔میں قطب صاحب کے مزار پر ہی گیا تھا۔میں نے کہا کہ بھلا یہ تو فرمائیں کہ آپ وہاں کیوں گئے تھے۔آپ تو وہ شخص ہیں کہ مسیح و مہدی کی بھی ضرورت نہیں سمجھتے۔پھر خواجہ قطب الدین کے آپ کیوں محتاج ہوئے حالانکہ خواجہ قطب الدین آپ کے فتویٰ کے مطابق کافر ہیں۔میں نے تو جناب کی مجلس میں آکر ہی یہ فتوی سنا۔کہ مرید کا پیر کو سجدہ