جذبۃ الحق

by Other Authors

Page 2 of 63

جذبۃ الحق — Page 2

2 کرنے پر مجدد جدید کا ظاہر ہونا ایک ضروری بات ہے منحوائے حدیث مشہور ان الله يبعث لهذه الأمة عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةٍ سَنَةٍ مَنْ تُحَدِّدُ لَهَا دينها (مشكوة) یعنی تحقیق الله تعالى مبعوث فرمائے گا واسطے اس امت کے اوپر سر ہر سو برس کے۔اس شخص کو کہ تجدید کرے واسطے اس کے دین اس کا۔جیم اس کا۔جیسا کہ گذشتہ صدیوں میں ہوتے آئے ہیں۔اور علمائے محققین اپنی اپنی تالیفات میں مفصل لکھتے آئے ہیں کمالا يَخْفَى عَلى أَهْلِ الْعِلْمِ وَالدَّرَايَةِ۔جیسا کہ پوشیدہ نہیں ہے او پر اہل علم اور دریافت کے۔پس ہر قوم اپنے اپنے مقتداء و معتقدیہ کی نسبت مجدد ہونے کا گمان کرنے لگے۔چنانچہ غیر مقلدین جو اپنے کو اہل حدیث کہلاتے ہیں۔نواب صدیق حسن خاں صاحب بھوپالی کی نسبت یہ گمان کرتے تھے اور بعض بعض مقلدین یعنی حنفی المذہب استاد نا حضرت مولینا محمد عبدالی صاحب مرحوم و مغفور لکھنوی کی نسبت بھی یہی گمان کرتے تھے چنانچہ مؤلف حدائق الحنفیہ نے مولانا مروح کا ذکر کرتے ہوئے اس طرح لکھا ہے۔غرضیکہ کثرت تصنیفات اور تنشیر علوم دین کے سبب ہندوستان کے حنفیوں میں اس زمانہ میں اس جامعیت ولیاقت کا اور کوئی عالم و فاضل دکھائی ، نہیں دیتا جس سے ان کو اگر چودھویں صدی کا مجد د امت محمدیہ قرار دیا جاوے تو کوئی مبالغہ نہیں ہے اور بعض سوات د بنیر کے اخوند صاحب کی نسبت یہ گمان کرتے تھے اور بعض دیگر اشخاص کی نسبت۔لیکن چونکہ کسی کو بھی متحقق طور پر یہ دعوی کرنے کی جرات نہیں ہوئی تھی۔اس لئے کوئی بات متقرر نہ تھی۔جس کے جی میں جو کچھ آتا تھا کہتا تھا اسی طرح پر چونکہ امام مہدی آخر زمان کے ظاہر ہونے کا بھی غالب مظنہ کی چودھویں صدی کا آغاز تھا اور وہ وقت بھی