جذبۃ الحق — Page 12
12 مجبور أمولوی عبد الوہاب بہاری چپ ہو کر بیٹھ گئے۔اور خاکسار نے کھڑے ہو کر بڑی تیزی کے ساتھ تقریر شروع کر دی۔پہلے یہ تمہید اٹھائی کہ جس وقت سے میں مغربی ہند کے سفر سے اس ملک میں واپس آیا ہوں کوئی مولوی میرے مقابل کھڑا نہیں ہوا تھا۔ان دنوں سننے میں آیا تھا کہ مغربی ہند کے دو زبر دست فاضل مولوی آئے ہیں یہ خبر سنکر میں بہت خوش تھا کہ ایک مدت کے بعد میں اپنے دل کے حو صلے نکالوں گا۔اور فاضلانہ گفتگو ہوگی۔اس وقت ایک شخص نے جو تقریر کی اس سے ظاہر ہو گیا کہ اس شخص کو علم سے کچھ بھی تعلق نہیں بلکہ اس سے بالکل بے بہرہ ہے۔بازاری ملائشی جس طرح تقریریں کیا کرتے ہیں اسی طرح اس شخص نے بھی کی۔کوئی عالمانہ نکتہ یا کوئی علمی تحقیق بیان نہیں کی۔جو آیات قرآنی یا حدیثیں اس شخص نے بیان کیں۔ان کے معانی بالکل غلط بیان کئے۔اب آپ حضرات خاموش بیٹھ کر تھوڑی دیر سنیں میں ایک ایک آیت اور حدیث تلاوت کر کے ان کے معنی سناتا ہوں۔اس کے بعد سب سے پہلے میں نے مسئلہ وفات مسیح اسرائیلی پر کچھ بیان کرنا شروع کیا۔اور حیات مسیح کی تردید کرتا گیا۔میری تقریر کی روانی کو دیکھ کر مخالفین کے چھکے چھوٹ گئے اور بیٹھ کر سننے کی تاب نہ رہی یہ دیکھ کرنا چا ر اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے مولویوں کو ساتھ لے کر جلسہ گاہ سے چلے جانے لگے۔عام حاضرین میں یہ خیال پیدا ہو گیا کہ جب ان کے مولوی صاحب نے وعظ بیان کیا تب تو ہمارے مولوی صاحب بیٹھ کر سنتے رہے۔مگر جب ہمارے مولانا صاحب تقریر کرنے لگے تو وہ سب اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے مولویوں کو ساتھ لے کر چلے جاتے ہیں لہذا دو ڑو اور انہیں ہر گز جانے نہ دو۔اس خیال کا پیدا ہو نا تھا کہ کئی ہزار آدمیوں نے ان کو معہ ان کے مولوی کے گھیر لیا۔اور جانے