حضرت جویریہؓ — Page 5
5 چنانچہ وہ سارے قیدی جو غزوہ مریسیع سے ہاتھ لگے آزاد کر دیئے گئے بغیر کسی مکاتبت یا لین دین کے۔سب قیدی واپس آگئے تو ہر گھر میں اسلام اور بانی اسلام کی تعلیمات کا چرچا ہونے لگا اور لوگوں نے تیزی سے اسلام قبول کرنا شروع کر دیا۔خود حضرت جو ہر یہ راضی اور علما کے گھر میں اسلام کیسے داخل ہوا یہ ایک دلچسپ قصہ ہے۔جب آپ کے والد کو پتہ چلا کہ جولوگ قیدی بنا لئے گئے ہیں اُن میں اُس کی لاڈلی بیٹی بھی شامل ہے تو وہ کچھ مال اسباب جس میں اونٹ بھی شامل تھے لے کر چلا ، تا کہ فدیہ ادا کر کے بیٹی کو آزاد کر لائے۔راستے میں اُسے اُن میں سے دو اونٹ جو بہت قیمتی تھے دینے کو دل نہ چاہا۔جب وادی حقیق میں پہنچا تو وہ اونٹ وہاں چھپا دیئے پھر رسول اللہ میلے کے پاس آیا اور کہا:۔اے محمد علی ! تم میری بیٹی کو لے آئے ہو یہ اُس کا فدیہ ہے آپ ﷺ نے فرمایا :۔وہ دو اونٹ کہاں ہیں جنہیں تم عقیق کی وادی میں چھپا آئے ہو۔دراصل اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو کشفاً سارا نظارہ دکھا دیا تھا۔حارث یہ سُن کر سٹپٹا گیا اور اُس کے دل نے کہا یہ آدمی جھوٹا نہیں ہوسکتا۔بآواز بلند کلمہ شہادت پڑھا اور مسلمان ہو گیا۔اُس کے ساتھ اُس کے دو بیٹے عبد اللہ اور عمر و بھی مسلمان ہو گئے۔(7) آپ ﷺ نے حضرت جویریہ رضی اللہ عنہ کو بلایا۔حارث نے