حضرت جویریہؓ — Page 7
7 میں دیکھا تھا کہ چاند میثرب (مدینہ) کی جانب سے چلتا ہوا آیا اور میری گود میں گر گیا۔میں نے یہ خواب کسی کو بتانا پسند نہیں کیا۔جب ہم گرفتار ہوئے تو میں نے خواب پورے ہونے کی اُمید کی تو آپ ﷺ نے مجھے آزاد کر دیا اور میرے ساتھ شادی کر لی اس وقت میری عمر 20 سال تھی۔“ (10) آنحضرت علیہ اور ازواج مطہرات کی سیرت کے متعلق بہت سی کتب لکھی گئی ہیں جن میں لکھنے والوں نے واقعات کی ترتیب اپنے اپنے خیال کے مطابق رکھی ہے۔اس وجہ سے مختلف جگہوں پر مختلف انداز ملتا ہے۔ہم نے اُن کتابوں کو پڑھ کر ایک خلاصہ آپ کے لئے لکھ دیا ہے جس سے اصل واقعات کا آپ کو علم ہو جائے گا تھوڑی بہت ترتیب کا فرق ہوگا مثلا کسی نے لکھا ہے کہ آپ رضی اللہ عنھا کی شادی حضور ﷺ کے ساتھ حضرت جویریہ رضی اللہ عنھا کے باپ حارث کے آنے سے پہلے ہوئی تھی تو کسی نے لکھا ہے کہ حضرت جویر یہ رضی اند معما کے باپ نے ان کو آزاد کرا کے ان کی شادی حضور ﷺ کے ساتھ کی تھی تو اس سے خاص فرق نہیں پڑتا۔اب ہم دیکھیں گے کہ آنحضور ﷺ اور حضرت جویریہ کیسے رہا کرتے تھے۔حضرت جویریہ رضی اللہ صمہ اپنے قبیلے کے سردار کی بیٹی تھیں۔عرب کے رئیسوں کے گھروں میں شان و شوکت اور آسائش تھی۔آنحضور میلے کے گھر میں رہن سہن ، لباس خوراک ہر قسم کی سادگی تھی اور سادگی بھی انتہا کی تھی۔