جنت کا دروازہ — Page 90
90 90 بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔صاف معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء عارف تھے۔خدا کی حکمت کے راز سمجھتے تھے اور جانتے تھے کہ اگر خدا نے توفیق نہ دی تو ہم شکر کا حق بھی ادا نہیں کر سکیں گے پس حضرت سلیمان کے منہ سے یہ دعا بہت زیب دیتی ہے کیونکہ آپ پر خدا کے بے انتہاء احسانات تھے۔پس نہایت عاجزی کے ساتھ جھکتے ہوئے خدا کا خوف کھاتے ہوئے انہوں نے عرض کیا: (۔) اے میرے رب مجھے تو فیق عطا فرما۔(۔) کہ میں تیری نعمت کا شکریہ ادا کر سکوں۔() اس نعمت کا جو تو نے مجھ پر کی اور صرف اس کا نہیں۔(-) اور اس نعمت کا بھی مجھ پرشکریہ واجب ہے جو تو نے میرے والدین پر کی۔اب یا درکھیں اس دعا نے ہمیں ایک اور بہت گہر ا حکمت کا موتی پکڑا دیا۔بچوں پر فرض ہے کہ اپنے والدین کا شکریہ بھی ادا کریں۔اور والدین پر جو خدا نے نعمتیں عطا کیں۔والدین کی زندگی تھوڑی ہوئی۔اور وہ ان سب نعمتوں کا شکریہ ادا نہ کر سکے تو یہ اولاد کا فرض ہو گیا اور وہ والدین بھی جو خدا کے نیک بندے تھے اور انہوں نے خدا کا شکر کرتے ہوئے زندگی گزاری ان کی اولاد کو بھی یہ احساس ہونا چاہئے کہ ہم پر ہمارے ماں باپ کا احسان ہے۔ہم اس احسان کا صرف اس رنگ میں بدلہ اتار سکتے ہیں کہ جو نیک کام وہ کیا کرتے تھے ان نیک کاموں کو ہم بھی کریں۔جو خدا نے ان پر احسان کئے تھے ان احسانات کا شکریہ ہم ان کی طرف سے خدا تعالیٰ کے حضور پیش کریں تو کتنا عظیم الشان نبی تھا حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام۔کتنی گہری معرفت اور حکمت کی باتیں کرنے والے تھے۔آپ کی دعا ئیں بھی گہری حکمت پر مبنی تھیں۔پس شکر یہ اپنا ہی نہیں بلکہ اپنے والدین کا بھی ادا کرنے کا خیال آیا۔اور کہا وعلى والدی اور اپنے والدین کا بھی شکریہ ادا کروں اور کس طرح شکریہ ادا کروں؟ زبان سے نہیں۔عرض کرتے ہیں (۔) ایک ہی طریق ہے تیرا شکر یہ ادا کرنے کا نیک اعمال اعمال بجا لاؤں۔ایسے اعمال بجالاؤں جو تجھے پسند آجائیں۔( ذوق عبادت صفحہ 356-357)