جنت کا دروازہ — Page 86
86 انسان شامل ہو جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مزید کسی تمہید باندھنے کی ضرورت نہیں پڑی۔فرمایا ہم نے انسان کامل سے یہ کہا تھا کہ یاد رکھو کہ اپنے والدین سے ہمیشہ احسان کا سلوک کرنا حملته امه کرها و وضعته کرها یه مضمون بھی دیکھ لیجئے عام ہے۔تمام بنی نوع انسان پر یہ مضمون مشتمل ہے۔آگے جا کر یہ مضمون اور رنگ اختیار کر جائے گا۔تم دیکھو تمہاری ماؤں کا تم پر کتنا احسان ہے یا اگر لفظی ترجمہ کریں تو غائب میں مضمون بیان ہو رہا ہے۔تو ترجمہ ہوگا ہر انسان کی ماں اسے بہت تکلیف سے پیٹ میں اٹھائے پھرتی ہے۔(-) اور بہت تکلیف کے ساتھ جنم دیتی ہے۔نو مہینے تک اپنے پیٹ میں پالتی ہے۔ایسی حالت میں کہ وہ بہت ہی ادبی حالت سے ترقی کرتے کرتے انسان کی حالت تک پہنچتا ہے۔اب آپ دیکھیں جس نے ربنا اللہ کا دعوی کیا تھا اسی کی مزید صفت بیان ہوئی ہے۔رب کا مطلب ہی یہ ہے ادنی سے ترقی دے کر اعلیٰ حالت تک پہنچانے والا۔انسانی رشتوں میں اس کی بہترین مثال ماں بنتی ہے فرمایا اپنی ماں کی طرف دیکھو کہ ہر انسان کی ماں نے اسے بڑی مصیبتوں سے پیٹ میں پالا اور پھر بڑے خطرات کے ساتھ اس کو جنم دیا۔(-) اور یہ عرصہ پیٹ میں اٹھائے پھرنے کا اور پھر وضع حمل کا اور پھر دودھ پلانا یہ میں مہینوں تک پھیلا ہوا ہے۔(۔) یہاں تک کہ جب وہ بلوغت کو پہنچ گیا اور چالیس سال کی عمر کو پہنچ گیا۔(-) تو اس نے دعا کی جو میں بیان کروں گا۔یہاں میں نے کہا تھا کہ آگے جا کر مضمون بدل جائے گا۔ایک مضمون ہے عام جو سارے بنی نوع انسان میں مشترک ہے۔ہر ایک کی ماں اسی طرح اسے جنم دیتی ہے لیکن ہر شخص احسان مند نہیں ہوا کرتا۔اب واپس حضرت محمد رسول اللہ مے کی طرف مضمون لوٹ گیا ہے۔ایک عام واقعہ بیان کر کے جو سب بنی نوع انسان میں مشترک