جنت کا دروازہ — Page 85
85 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اور ہم نے انسان کو تاکیدی نصیحت کی کہ اپنے والدین سے احسان کرے۔اسے اس کی ماں نے تکلیف کے ساتھ اٹھائے رکھا اور تکلیف ہی کے ساتھ اسے جنم دیا۔اور اس کے حمل اور دودھ چھڑانے کا زمانہ میں مہینے ہے۔یہاں تک کہ جب وہ اپنی پختگی کی عمر کو پہنچا اور چالیس سال کا ہو گیا تو اس نے کہا اے میرے رب! مجھے تو فیق عطا کر کہ میں تیری اس نعمت کا شکر یہ ادا کر سکوں جو تو تھے مجھ پر اور میرے والدین پر کی اور ایسے نیک اعمال بجالاؤں جن سے تو راضی ہو اور میرے لئے ذریت کی بھی اصلاح کر دے۔یقیناً میں تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں اور بلا شبہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔اس آیت کا ایک اہم مضمون یہ ہے کہ :۔(احقاف-16 ) انسان ان نعمتوں کا بھر پور شکریہ ادا کرے جو خدا نے اس کے والدین پر کی تھیں۔اس بارہ میں حضرت رسول اللہ ﷺ کا نمونہ پیش فرمایا گیا ہے۔اس آیت کا ترجمہ اور وضاحت کرتے ہوئے حضرت خلیفہ اسیح الرابع ایدہ اللہ فرماتے ہیں۔ہم نے الانسان یعنی محمد رسول اللہ کو انسان کامل کو یہ نصیحت فرمائی کہ اپنے والدین سے احسان کا سلوک کرو۔یہاں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے تو اپنے والدین کا منہ نہیں دیکھا۔والدہ کو دیکھا لیکن تھوڑے عرصہ کے لئے اور والد تو بعض روایات کے مطابق آپ کے پیدا ہونے پہلے ہی فوت ہو چکے تھے۔پس بوالدیه احسانا کا کیا مطلب ہے۔یہاں دراصل آنحضرت ﷺ کو جونصیحت ہے وہ تمام ینی نوع انسان کو نصیحت ہے کیونکہ انسان کامل کو جو نصیحت کی جائے اس میں تمام ادنیٰ