جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 76 of 143

جنت کا دروازہ — Page 76

76 ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی عے کا عورتوں کے متعلق مردوں کو یہ نصیحت کرنا یا تمام قوم کو یہ نصیحت کرنا کہ تمہاری جنت تمہاری ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے ایک بہت ہی معارف کا سمندر ہے جو ایک چھوٹے سے فقرے کے کوزے میں بند کر دیا گیا ہے۔عورت کے اختیار میں ہے کہ قوم کا مستقبل بنائے۔جس جنت کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ صرف آخرت کی جنت نہیں بلکہ اس دنیا کی جنت بھی ہے۔کوئی قوم جسے اس دنیا کی جنت نصیب نہ ہوا سے آخرت کی جنت کی موہوم امیدوں میں نہیں رہنا چاہئے وہ محض ایک دیوانے کا خواب ہے کیونکہ جس کے دل کو اس دنیا میں سکینت نصیب نہیں ہوتی اسے آخرت میں بھی سکینت نصیب نہیں ہو سکتی۔جو اس دنیا میں اندھے ہیں وہ اس دنیا میں بھی اندھے ہی اٹھائے جائیں گے۔پس اس پہلو سے مسلمان عورت کی کچھ ذمہ داریاں ہیں جو اس دنیا کے ساتھ بھی تعلق رکھتی ہیں اور اس دنیا کے ساتھ بھی تعلق رکھتی ہیں۔سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ ہر خاتون جو گھر کی ملکہ ہے کیا اس کے گھر میں جنت بن گئی ہے یا نہیں بنی ؟ کیا اس کی اولاد میں جنتیوں والی علامتیں پائی جاتی ہیں کہ نہیں؟ اسے دیکھ کر ہر عورت خود اپنے نفس کا جائزہ لے سکتی ہے اور اس بات کو پر کھ سکتی ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی عے کی پیش کردہ کسوٹی کے مطابق میں وہ عورت ہوں کر نہیں جس کا ذکر میرے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ نے اتنے پیار اور اتنے ناز اور اتنے اعتماد کے ساتھ کیا ہے مجھے مخاطب کیا میرا ذکر فرمایا اور یہ کہا کہ اے مسلمان عورت جو میرے حلقہ ارادت میں داخل ہوئی تجھ سے مجھے یہ توقع ہے کہ تیرے پاؤں کے نیچے جنت ہے۔پس یہ محض مردوں کے لئے ہی پیغام نہیں بچوں کے لئے ہی پیغام نہیں کہ تم اپنی جنت اپنی ماں کے پاؤں تلے ڈھونڈ و اور بالعموم یہی معنی ہیں جو سمجھے جاتے ہیں اور بیان کئے جاتے ہیں کہ عورت کا ادب کرو۔عورت کی دعائیں لو حالانکہ