جنت کا دروازہ — Page 66
66 حضرت اقدس مسیح موعود ( ) نے اسی لئے ایک (رفیق) پر بہت ہی خفگی کا اظہار فرمایا جن کے متعلق اطلاع ملی تھی کہ وہ اپنی اولا د سے سختی کرتے ہیں اور مار کے ان کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔اتنی سختی کا اظہار فرمایا کہ بہت کم میں نے حضرت مسیح موعود کو اپنے رفقاء پر اس طرح ناراض ہوتے دیکھا ہے اور بار بار اس طرف توجہ دلائی کہ تم دعا کیوں نہیں کرتے۔اس سے پتہ چلا کہ خدا کے پاک بندے جو سچا ایمان رکھتے ہیں وہ تمام کوششوں میں سب سے زیادہ اہمیت دعا کو دیتے ہیں۔تربیت میں سب سے اہم دعا ہے پس رب ارحمهما (-) میں ایک یہ پہلو بھی ہمارے سامنے آ گیا کہ وہ رستہ جس پر خدا کے انعام یافتہ لوگ چلا کرتے تھے وہ اپنی اولاد کے لئے صرف رحمت کا سلوک نہیں کیا کرتے تھے۔ان کے لئے دعائیں کیا کرتے تھے۔اور ان کی دعائیں ان کے رحم کے نتیجہ میں ہوتی تھیں۔کیونکہ رحم کے نتیجے میں وہ خود بعض سختیاں اختیار نہیں کر سکتے تھے۔بعض جگہ وہ تجاوز نہیں کر سکتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم نہیں ہے کہ میں یہاں زبر دستی اس کو ٹھیک کر دوں۔اس کے نتیجہ میں ان کے دل میں درد پیدا ہوتا تھا اور دعاؤں کی طرف توجہ پیدا ہوتی تھی۔پس وہ لوگ جو منعم عليهم ہیں جن کو خدا نے اس رستہ پر کامیابی سے چلنے کی توفیق بخشی جو انعام یافتہ لوگوں کا رستہ تھا۔انہوں نے اپنی اولادوں کے لئے دعا ئیں بھی بہت کیں۔پس اس کے نتیجہ میں خدا نے بھی جوا با حسن سلوک سکھایا تو اس مضمون کو دعا پر ختم کیا۔فرمایا وہ تمہارے ساتھ حسن سلوک کرتے تھے اس میں دعا ئیں بھی شامل تھیں۔نما کے لفظ نے بتا دیا کہ دعا ئیں ضرور شامل تھیں اگر دعا ئیں شامل نہ ہو تیں تو خداد عا سکھاتا کیوں ؟ پس اس مضمون کو دعا پر ختم کرنا اس آیت کو بہت ہی زیادہ دلکشی عطا کرتا ہے۔بہت ہی حسین بنا دیتا ہے۔کیسا