جنت کا دروازہ

by Other Authors

Page 61 of 143

جنت کا دروازہ — Page 61

61 بچپن ہی سے والدین اپنی زندگی کی لذتوں میں منہمک پڑے ہوں اور اولا د کو سکولوں کے سپرد کر دیں یا معاشرے کے سپرد کر دیں اور ان کی تربیت میں جو ذاتی تعلق پیدا کرنا چاہئے وہ تعلق پیدا نہ کریں ( تو یہ دعا ان کے حق میں نہیں سنی جائے گی ) یاد رکھیں یہاں بچوں کے ساتھ پیار کا ذکر نہیں ہے۔بچوں کے ساتھ پیار تو ہر معاشرے میں والدین کو ہوتا ہی ہے۔فرمایا ایسا پیار ہو جو تربیت میں استعمال ہوا ہو اور ایسا پیار نہ ہو جو تربیت خراب کرنے والا ہو۔پس پیار کے متوازن ہونے کا بھی اس آیت میں ذکر فرما دیا اور یہ بھی بتا دیا کہ وہ پیار ہی کام کا پیار ہے جس کے نتیجے میں اولاد اعلیٰ تربیت پائے۔پس وہ والدین جو اس بات سے غافل رہتے ہیں ان کی سوسائٹیوں میں کئی قسم کی خرابیاں جگہ پکڑ جاتی ہیں اور ان کی اولادمیں جب بڑی ہوتی ہیں تو وہ اپنے والدین کے لئے نہ خدا تعالیٰ سے احسان کی دعائیں مانگتی ہیں نہ خود احسان کا سلوک کرتی ہیں۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بوڑھے آدمیوں کے گھر ایسے والدین سے بھر جاتے ہیں۔جن کی اولادیں ان سے غافل ہو چکی ہوتی ہیں۔ان کے ساتھ حسن سلوک تو در کنار ان کی معمولی سی غفلت پر ان کو ڈانٹتے ہیں ان سے قطع تعلقی کرتے ہیں ان کے ساتھ بدسلوکی سے پیش آتے ہیں اور جن جن معاشروں میں یہ مرض بڑھتا چلا جاتا ہے وہاں حکومت کے اخراجات بوڑھے لوگوں کے گھروں پر زیادہ سے زیادہ بڑھنے لگتے ہیں یہاں تک کہ بعض امیر ممالک بھی عاجز آ جاتے ہیں اور ان کے پاس اتنا روپیہ مہیا نہیں ہوتا کہ وہ اپنی سوسائٹی کے سب بوڑھوں کی ضرورتوں کو پورا کر سکیں جو ضرورتیں دراصل ان کی اولا د کو پوری کرنی چاہئے تھیں۔لیکن جیسا کہ غالباً مولانا روم کا شعر ہے از مکافات عمل غافل مشو گندم از گندم بروید جو ز جو