جنت کا دروازہ — Page 60
60 روشن کر دیا کہ وہ والدین جو اچھی تربیت کرنے والے ہوں وہ بچپن میں رحم کے ساتھ تربیت کیا کرتے ہیں اور وہ لوگ جن کو یہ دعا سکھائی گئی ہے وہ کیونکہ دراصل حضرت محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے ساتھی ہیں، آپ کے غلام ہیں اس لئے ان کے والدین سے بہترین توقعات بھی پیش فرمائی گئیں اور یہ بیان کیا گیا کہ جس طرح ہمارے والدین بچپن میں ہماری کمزوریوں کے پیش نظر ہم سے سختی کرنے کی بجائے رحمت کا معاملہ کیا کرتے تھے اور تربیت میں بار بار بخشش کا سلوک فرماتے تھے اسی طرح اے خدا! اب میرے والدین کمزور ہو چکے ہیں تو ان کی غفلتوں اور کمزوریوں سے درگزر فرما اور ان کے ساتھ بخشش اور رحمت کا سلوک فرما۔اس ضمن میں ایک یہ بات بھی یادر کھنے کے لائق ہے کہ کما کے لفظ نے ہمیں ہماری بہت سی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلا دی جو صرف والدین کی طرف سے نہیں بلکہ اپنی اولا د اور آئندہ نسلوں کی طرف سے ہمیں پیش آتی ہیں اور ہمیں انہیں کس طرح ادا کرنا چاہئے اس کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔فرمایا: رب ارحمهما (-) یورپی معاشرے کے عذابوں کی وجہ گما کے لفظ نے یہ بتایا کہ اگر والدین بچوں کی تربیت رحمت کے ساتھ نہیں کرتے تو یہ دعا ان کے حق میں نہیں سنی جائے گی کیونکہ کسما کا مطلب ہے جیسے انہوں نے بچپن میں رحمت کے ساتھ میری تربیت کی یہ وہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کو بھلا کر یورپ اپنے معاشرے میں کئی قسم کے عذاب پیدا کر چکا ہے۔اولاد کے ساتھ حسن سلوک اور رحم کے ساتھ تربیت کرنا اس لئے بھی نہایت ضروری ہے تا کہ بعد میں بڑے ہو کر اس اولاد کا اپنے والدین سے اسی طرح رحمت اور نرمی اور مغفرت کا تعلق ہو۔اگر