جنت کا دروازہ — Page 33
33 وبالوالدين احسانا والدین کے ساتھ جہاں تک احسان کا تعلق ہے اس کے متعلق یہ قطعی امر ہے کہ انسان اپنے والدین کے احسانات اتار نہیں سکتا۔بلکہ آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر ایک شخص کا پورا مال اس کے والد کی ملکیت قرار دیا۔یہ ورثے کا اور قانونی مسئلہ نہیں تھا بلکہ تربیتی اور اخلاقی لحاظ سے اولاد کو ایک زبر دست نصیحت تھی۔ایک صحابی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ۔میرے پاس مال ہے اور اولا دبھی ہے۔لیکن میرے والد کو میرے مال کی ضرورت ہے۔اس بارہ میں حضور ﷺ رہنمائی فرمائیں۔حضور ﷺ نے فرمایا۔تو اور تیرا مال سب تیرے والد کا ہے پھر فرمایا تمہاری اولاد تمہاری بہترین کمائی ہے اس لئے اپنی اولاد کی کمائی کھا سکتے ہو۔(ابوداؤد كتاب البيوع باب في الرجل يا كل من مال والده حديث 3061) سید نا حضرت خلیفہ اسیح الاوّل نے فرمایا۔وبالوالدين احسانا ماں باپ ایک تربیت کے متعلق ہی جس قدر تکلیف اٹھاتے ہیں اگر اس پر غور کیا جائے تو بچے پیر دھو دھو کر پئیں۔میں نے چودہ 14 بچوں کا بلا واسطہ باپ بن کر دیکھا ہے کہ بچوں کو ذراسی تکلیف سے والدین کو سخت تکلیف ہوتی ہے۔ان کے احسانات کے شکریہ میں ان کے حق میں دعا کرو۔میں اپنے والدین کے لئے دعا کرنے سے کبھی نہیں تھکا۔کوئی ایسا جنازہ نہیں