جنت کا دروازہ — Page 29
29 چندہ کی تحریک فرمائی۔مخمصے میں پڑ گیا۔دونوں ماہ کی تنخواہ تو والدین کو دے چکا تھا۔اور مانگنے میں شرم محسوس کرتا تھا۔شام کو آیا تو میرے سوتیلے) والد صاحب نے پوچھا کہ حضور نے اپنی تقریر میں کیا فرمایا ہے۔میرے بتانے پر انہوں نے فوراً ایک ماہ کی تنخواہ جو - 521 روپے سے زائد تھی۔حضور کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے واپس کر دی۔میں نے اگلے دن وہ رقم حضور کو بھجوادی۔(حیات ابوالمبارک صفحہ 54,58) ڈاکٹر عبدالسلام صاحب محترم ڈاکٹر عبد السلام کی بیٹی ڈاکٹر رحمان تحریر فرماتی ہیں۔ابا جان کی اپنے والدین کے لئے محبت اور ان کا اپنے بیٹے کے لئے والہانہ عشق فقید المثال تھا میرے دادا جان چود ہری محمد حسین صاحب بذات خود ایک ممتاز شخصیت کے مالک تھے اللہ تعالی سے عشق اور مذہب سے محبت ان کو اپنی زندگی کے اوائل سے ہی تھی خدا نے ان کی رہنمائی دعاؤں اور کشوف و رویا سے کی اور انہوں نے حضرت خلیفہ اسیح الاول کے ہاتھ پر 1914 ء میں احمدیت قبول کی جب وہ محض 12 سال کے تھے میرے والد کی پیدائش کے بعد انہوں نے اپنی زندگی اپنے بیٹے میں جملہ خوبیوں کو اجاگر کرنے اور ان کے تعلیمی کیرئیر کو بہتر بنانے کے لئے وقف کر دی یہ میرے دادا ہی تھے جنہوں نے میرے والد میں مطالعہ کا ذوق پیدا کیا اور ان میں عرق ریزی و محنت کرنے کا نظم و نسق پیدا کیا۔دادا جان مرحوم و مغفور کا ایک ہر دلعزیز مقولہ یہ تھا Time and tide wait for no man میرے پیارے ابا جان دادا مرحوم کے مکمل مطیع اور فرمانبردار تھے اور ان کی رہنمائی کو بغیر سوچے و سمجھے قبول کرتے تھے میری دادی اماں کا نام ہاجرہ تھا جو حافظ نبی بخش صاحب کی دختر تھیں۔دادی ماں نہایت رحمدل۔سراپا محبت اور ساد و لوح