جنت کا دروازہ — Page 97
97 فرغانہ سے حج کا ارادہ کیا۔نیشا پور میں پہنچ کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔مگر آپ نے توجہ نہ کی۔اس نے دل میں خیال کیا۔کہ یہ معجب مسلمان ہے۔کہ سلام کا جواب تک نہ دیا۔آپ نے اس کے دل کے اس خطرے کو دیکھ کر فرمایا کہ کیا حج اس کا نام ہے۔کہ ماں کو بیمار چھوڑ کر حج کرتے ہو۔یہ کس حال میں جائز ہے۔چنانچہ وہ وہیں سے واپس فرغانہ چلا گیا۔جب تک اس کی ماں زندہ رہی خدمت کرتا رہا۔والدہ کی وفات کے بعد جب وہ شخص آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے دوڑ کر اس کا استقبال کیا۔( تذکرۃ الاولیاء صفحہ 235 از فریدالدین عطار متر حجم شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور ) خدمت کرو حضرت خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں شریف والوں نے بیان فرمایا کہ شیر از میں ایک بزرگ رہتے تھے جو شخص آپ کی خدمت میں جا کر حج پر جانے کا ارادہ ظاہر کرتا تھا۔آپ اس سے پوچھتے تھے کہ کیا تمہاری والدہ زندہ ہے یا مردہ۔جو شخص یہ کہتا تھا کہ زندہ ہے آپ اسے حج پر جانے سے منع کرتے تھے۔اور فرماتے تھے کہ تمہارا حج اس کی خدمت کرنا ہے۔واپس جاؤ اور اس کی خدمت کرو۔اشارات فریدی۔مقابیس المجالس ملفوظات خواجہ غلام فرید صاحب ص 307 ترتیب رکن الدین ترجمه کپتان واحد بخش سیال اسلام بک فاؤنڈیشن لاہور ) غور سے دیکھا حضرت ابو محمد مراقش فرماتے ہیں کہ میں نے تمہیں سال تک محض تو کل پر حج کئے۔لیکن جب غور سے دیکھا۔تو وہ سب کے سب حج ہوائے نفس سے تھے۔پوچھا کہ یہ آپ کو کیسے معلوم ہوا۔تو فرمایا کہ میری والدہ نے فرمایا کہ پانی کا گھڑا لے آؤ۔تو ان کا