جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 54
54 پہلے مجھے تھے کہ موسیٰ کا عصا پھر جو سوچا ایسا چمکا ہے ہے فرقاں ہر اک لفظ مسیحا نکلا اپنا ہی اندھوں کا وگرنہ ثور وہ نیر بیضا نکلا صد زندگی ایسوں کی کیا خاک ہے اس دُنیا میں جن کا اس نُور کے ہوتے بھی دل اعمی نکلا ( براہین احمدیہ حصہ سوئم ص ۴ ۲۷) اسلام اسلام چیز کیا ہے خدا کے کے لئے فنا ترک رضائے خویش پنے مرضی خُدا المسيح الموعود ) اسلام کی فتح حقیقی اس میں ہے کہ جیسے اسلام کے لفظ کا مفہوم ہے اسی طرح ہم اپناو جود خدا تعالیٰ کے حوالے کر دیں اور اپنے نفس اور اس کے جذبات سے بکلی خالی ہو جائیں اور کوئی بت ہوا اور ارادہ اور مخلوق پرستی کا ہماری راہ میں نہ رہے اور بکی مرضیات الہیہ میں محو ہو جائیں اور بعد میں اس کے وہ لقا ہم کو حاصل ہو جائے جو ہماری بصیرت کو ایک دوسرا رنگ بخشے اور ہماری معرفت کو ایک نئی نورانیت عطا کرے اور ہماری محبت میں ایک جدید جوش پیدا کرے اور ہم ایک نئے آدمی ہو جائیں۔اور ہمارا وہ قدیم خدا بھی ہمارے لئے نیا خدا ہو جائے۔یہی فتح حقیقی ہے۔“ (اشتہار یکم دسمبر ۱۸۸۸ء تبلیغ رسالت جلداول) ”سچائی کی فتح ہوگی اور اسلام کے لئے پھر اس تازگی اور روشنی کا دن آئے گا جو پہلے وقتوں میں آچکا ہے اور وہ آفتاب اپنے پورے کمال کے ساتھ پھر چڑھے گا جیسا کہ پہلے چڑھ چکا ہے لیکن ابھی ایسا نہیں۔ضرور ہے کہ آسمان اسے چڑھنے سے روکے رہے جب تک کہ محنت اور جانفشانی سے ہمارے جگر خون نہ ہو جائیں اور ہم سارے آراموں کو اس کے ظہور کے لئے نہ کھو دیں۔اور اعزاز دین حق کے لئے ساری ذلتیں قبول نہ کر لیں۔( دین حق ) کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے وہ کیا ہے؟ ہمارا اسی راہ میں مرنا یہی موت ہے جس پر دین حق کی زندگی مسلمانوں کی زندگی اور زندہ خدا کی تجلی موقوف ہے۔“ (فتح اسلام ص ۱۵ تاص اے )