جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 28 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 28

28 سے دو بیٹے پیدا ہوئے :۔ا۔حضرت مرزا سلطان احمد صاحب۔۱۸۵۳ء تا ۱۹۳۱ء ۲۔حضرت مرز افضل احمد صاحب۔۱۸۵۵ء تا ۱۹۰۴ء آپ کی دوسری شادی ۱۸۸۴ء میں اللہ تعالیٰ کے منشاء اور اس کے خاص الہام کے ماتحت دہلی کے ایک مشہور سادات خاندان کی ایک معزز اور پاکباز خاتون ” حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ سے ہوئی۔اس بیوی سے دس بچے پیدا ہوئے جن میں سے پانچ بچے تو کم عمری میں ہی فوت ہو گئے۔باقی پانچ بچوں کے اسمائے گرامی یہ ہیں:۔ا۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء تا ۸ نومبر ۱۹۶۵ء ۲۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے ۲۰ /اپریل ۱۸۹۳ تا ۲ ستمبر ۱۹۶۳ء ۳۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب ۲۴ مئی ۱۸۹۵ ء تا ۲۶ / دسمبر ۱۹۶۱ء ۴۔حضرت نواب مبار که بیگم صاحبہ - ۲ مارچ ۱۸۹۷ ۳۰ مئی ۱۹۷۷ء ۵۔حضرت نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ۔۲۵ جنوری ۱۹۰۴ء تا ۶ رمئی ۱۹۸۶ء ۱۸۷۶ء تک آپ کی زندگی بالکل ذاتی رنگ رکھتی تھی مگر اس کے بعد آپ نے آہستہ آہستہ پبلک میں آنا شروع کیا یا زیادہ صحیح طور پر یوں کہنا چاہئے کہ خدا کی تقدیر آپ کو دنیا کی اصلاح کے لئے زاویہ گمنامی سے نکال کر شہرت کے میدان کی طرف کھینچنے لگی۔یہ وہ دور تھا کہ جب اسلام پر ہر طرف سے حملے ہورہے تھے اور ساری دنیا کا یہ حال ہو رہا تھا کہ مغربی تہذیب و تمدن کی بظاہر خوشگوار ہوائیں جہاں جہاں سے بھی گزرتی تھیں دہریت اور مادیت کا بیج بو جاتی تھیں اور یہ زہر بڑی سرعت کے ساتھ ہر قوم وملت میں سرایت کرتا جارہا تھا۔ان خطرات کو حضرت مسیح موعود کی تیز اور دور بین آنکھ نے دیکھا اور آپ کی اکیلی مگر بہادر روح اس مہیب خطرہ کے مقابلہ کے لئے بے قرار ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔آپ کی سب سے پہلی تصنیف جو براہین احمدیہ کے نام سے موسوم ہے اور چار جلدوں میں ہے اس مرکب حملہ کے جواب میں لکھی گئی تھی۔اس کتاب میں خصوصیت سے الہام کی ضرورت اور اس کی حقیقت۔اسلام کی صداقت اور قرآن کی فضیلت۔خدا تعالیٰ کی قدرت اور اس کے علم کی وسعت۔خدا کی خالقیت اور اس کی مالکیت پر نہایت لطیف اور سیر کن بحثیں ہیں اور ساتھ ہی اپنا ملہم ہونا ظاہر کر کے اپنے بہت سے الہامات درج کئے گئے ہیں جن میں سے بہت سے الہام آئندہ کے متعلق عظیم الشان پیشگوئیوں پر مشتمل ہیں۔غرض یہ اس پانیہ کی کتاب ہے کہ متفقین نے اسے بالا تفاق اس زمانہ میں اسلامی مدافعت کا شاہکار قرار دیا ہے۔چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی جو فرقہ اہلحدیث کے نامور لیڈر تھے اور بعد