جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 559
559 کے نائب صدر بھی رہے اور ایڈیشنل ناظر اصلاح وارشاد ( تعلیم القرآن ) کی حیثیت میں بھی اہم انتظامی اور دینی خدمات کی توفیق ملی اور خدمت کا یہ سلسلہ آخر تک جاری رہا حتی کہ وفات سے صرف ایک دن قبل بھی دفتر تشریف لے جا کر کام کرتے رہے۔۱۹۷۳ء کو سفر انگلستان کا اور ۱۹۷۶ء میں سفر ایران کا بھی آپ کو موقع ملا۔الغرض حضرت مولوی صاحب کی قلمی، لسانی تبلیغی، تربیتی اور تنظیمی خدمت کا ریکارڈ بہت شاندار ہے۔آپ کو یہ فخر بھی حاصل ہوا کہ ۱۹۵۶ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثانی الصلح الموعود رضی اللہ عنہ نے حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس رضی اللہ عنہ اور محترم ملک عبدالرحمن صاحب خادم رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہی آپ کو بھی خالد کے لقب سے سرفراز فرمایا اللہ تعالیٰ ان تینوں بزرگوں کو بہت بہت بلند درجات عطا فرمائے۔آمین۔آپ مورخہ ۳۰ مئی ۱۹۷۷ء کو وفات پا کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔۔حضرت مولانا قاضی محمد نذیر صاحب لائلپوری حضرت مولانا قاضی محمد نذیر صاحب مولوی فاضل ، منشی فاضل ، ایف۔اے انگلش ۳ رستمبر ۱۸۹۸ء کو پیدا ہوئے۔آپ کے والد محترم کا نام حضرت قاضی محمد حسین صاحب جو کہ صحابی تھے۔آپ کی آبائی سکونت کورووال تحصیل وضلع سیالکوٹ تھی۔بعد ازاں قادیان محلہ دار العلوم میں آپ کی رہائش رہی۔آپ نے دین اسلام کی تبلیغ واشاعت کی غرض سے اپنی زندگی ۱۹۳۸ء میں وقف کی۔اس سے پہلے آپ لائل پور حال ( فیصل آباد ) میں ایک سکول میں بطور مدرس متعین رہے۔یکم مئی ۱۹۳۸ء کو صدرانجمن احمد یہ میں آپ کی تقرری بطور معلم علوم شرقیہ کی گئی۔اس عہدہ پر چند سال خدمات سرانجام دینے کے بعد ۱۹۴۰ء میں جامعہ احمدیہ میں عربی ادب کے لیکچرار مقرار ہوئے۔۲ جنوری ۱۹۴۲ء کو نظارت دعوت تبلیغ میں بطور مبلغ خدمات انجام دیں۔۱۴ اپریل ۱۹۴۴ء کو مدرسہ احمدیہ تعیناتی ہوئی یہاں سے چند روز بعد یکم مئی ۱۹۴۴ءکو تعلیم الاسلام کالج میں دینیات ، فارسی اور اردو کے لیکچرار کی حیثیت سے خدمات انجام دینا شروع کیں۔۱۹۴۵ء میں آپ کی خدمات نظارت تعلیم کے حوالے کر دی گئیں اور ۷ استمبر ۱۹۴۵ء کو آپ جامعہ احمدیہ میں پڑھانے لگ گئے۔اس حیثیت میں کافی عرصہ خدمات بجالاتے رہے۔اور مئی ۱۹۵۵ء میں جامعہ احمدیہ کے پرنسپل مقرر ہوئے۔۱۹۵۷ء میں آپ کی خدمات نظارت اصلاح وارشاد کے سپرد ہوئیں۔۱۹۶۶ء میں آپ ناظر اصلاح و ارشاد مقرر ہوئے اور اس کے بعد ناظر اشاعت لٹریچر و تصنیف مقرر ہوئے اور ۸۲ سال کی عمر میں وفات پانے تک اسی عہدہ جلیلہ پر فائز تھے۔