جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 558 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 558

558 ข۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل ۱۴/ اپریل ۱۹۰۴ء کو ضلع جالندھر کے ایک گاؤں کر یہا (نزد کریام ) میں پیدا ہوئے آپ کے والد محترم کا اسم گرامی حضرت میاں امام الدین صاحب تھا جنہیں ۱۹۰۲ء میں احمدیت قبول کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔پرائمری تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ کے والد صاحب نے آپ کے ماموں حضرت ڈاکٹرمحمد ابراہیم صاحب کی تحریک پر آپ کو قادیان کے مدرسہ احمدیہ میں داخل کروایا جہاں پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ اور حضرت سید میر محمد الحق صاحب رضی اللہ عنہ جیسے جلیل الشان بزرگوں اور جید استادوں کے زیر سایہ آپ کو علمی اور روحانی ترقی کے انمول مواقع میسر آئے۔اسی کا نتیجہ تھا کہ آپ زمانہ طالب علمی ہی میں سلسلہ کی تقریری اور تحریری خدمات میں حصہ لینے لگے اور حضرت اصلح الموعود رضی اللہ عنہ کی خوشنودی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔۱۹۲۴ء میں آپ نے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا اور ۱۹۲۷ء میں آپ نے سلسلہ کا با قاعدہ مبلغ بننے کی توفیق پائی۔۱۹۳۱ء میں بٹالہ ضلع گورداسپور کے ایک جلسہ میں آپ کو حضرت اصلح الموعود رضی اللہ عنہ کی نمائندگی کرنے کا فخر حاصل ہوا جبکہ حضور رضی اللہ عنہ نے اپنے دست مبارک سے سند نیابت لکھ کر انہیں عطا فرمائی۔تمصله اوائل عمر سے ہی آپ کو بہت سے اہم مناظرات میں اسلام اور احمدیت کی نمائندگی میں حصہ لینے کی توفیق ملی چنانچہ آپ نے متعدد مشہور عیسائی اور ہند ومخالفین اسلام سے بڑے معرکہ کے کامیاب مناظرے کئے اور ملک کے طول و عرض میں تشریف لے جا کر بکثرت تبلیغی دورے کئے اور جلسوں میں کامیاب تقاریر فرمائیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو تحریری میدان میں بھی نمایاں خدمات کی توفیق دی۔اوائل عمر ہی سے سلسلہ کے اخبارات میں مضامین تحریر کرنے شروع کئے جن کا سلسلہ وفات تک جاری رہا۔کم و بیش ۳۰ تصانیف فرمائیں جن میں تفہیمات ربانیہ، تجلیات رحمانیہ، القول المین کی تفسیر خاتم النبین ، مباحثہ مصر، مباحثہ راولپنڈی، مباحثہ مہت پورہ بہائی تحریک پر تبصرہ اور وحی و الہام کے متعلق اسلامی نظریہ جیسی جامع اور ضخیم کتب بھی شامل ہیں۔تحریری میدان میں آپ کی ایک اہم خدمت ماہنامہ الفرقان کا اجراء ہے جو آپ نے قادیان سے جاری فرمایا اور ۲۵ برس متواتر آپ کی ادارت اور ذاتی نگرانی میں سلسلہ کی اہم تبلیغی اور علمی خدمات بجالاتا رہا ہے۔حضرت مولوی صاحب کو چار پانچ سال تک بلا عر بیہ میں تبلیغ حق کا موقع بھی ملا جہاں سے آپ نے عربی رسالہ ”البشری جاری فرمایا۔ملک میں اہم تبلیغی خدمات کے علاوہ آپ جامعہ احمدیہ و جامعتہ المبشرین کے پرنسپل اور تعلیم الاسلام کالج کے لیکچرار بھی رہے۔سالہا سال تک مجلس کار پرداز کے صدر اور مجلس انصاراللہ