جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 18
18 ”ہندوستان کو سری کرشن کی بڑی ضرورت ہے“ کے عنوان سے لکھا:۔بھگوان کرشن کی جنم کی مہابھارت کے زمانہ سے بھی زیادہ ضرورت ہے۔گزشتہ ایک ہزار برس سے ہندوستان میں آفتیں نازل ہوئیں ان کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں پائی جاتی لیکن بیسویں صدی میں سوشل زوال اور پولیٹیکل گراوٹ انتہائی حالت کو پہنچ چکی ہے اور بھگوت گیتا میں بھگوان کا وعدہ سچا ہے تو اوتار کی سب سے زیادہ ضرورت آج کل ہے۔اس لئے بھگوان کرشنا آؤ۔جنم لو۔دنیا سے ناپاکی دور کرو۔دھرم پھیلاؤ ( منقول از الامان دیلی ۲۳ راگست ۱۹۳۰ء) اخبار ”ہندو میں ۷ اراپریل ۱۹۳۰ء کو ایک نظم شائع ہوئی: اب وقت مسیحائی۔“ ہے گوکل کے گوالے بیمار تیرے نزع میں لیتے ہیں سنبھالے وعدہ پر تیرے زندہ ہیں ابتک تیرے شیدائی کیا دیر ہے آغوش محبت میں بٹھا لے یورپ کے مشہور پروفیسر میکنزی اپنی (Introduction to socialogy) میں لکھتے ہیں:۔کامل انسانوں کے بغیر سوسائٹی معراج کے کمال پر نہیں پہنچ سکتی اور اس غرض کے لئے محض عرفان اور حقیقت آگاہی کافی نہیں بلکہ ہیجان اور تحریک کی قوت بھی ضروری ہے جسے یوں کہنا چاہئے کہ یہ معمہ حل کرنے کے لئے ہم نور و حرارت دونوں کے محتاج ہیں۔غالباً عہد حاضر کے معاشرتی مسائل کا فلسفیانہ فہم و ادراک بھی وقت کی اہم ترین ضرورت نہیں ہمیں معلم بھی چاہئے اور پیغمبر بھی ہمیں آج رسکن یا کارلائل یا ٹالسٹائی جیسے لوگوں کی ضرورت ہے جو ضمیر کو زیادہ تشد داور سخت گیر بنانے اور فرائض کے دائرے کو زیادہ وسیع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں غالباً ہمیں ایک مسیح کی ضرورت ہے۔“ ( بحوالہ مکاتیب اقبال ص ۴۶۲-۴۶۴ مرتبہ شیخ عطاء اللہ ایم۔اے) یورپ کا ایک مفکر سیاح مارس انڈس ایک مستقبل کی تلاش میں“ کے عنوان پر لکھتا ہے:۔دمشق، بیروت، بغداد، مکہ، تہران، قاہرہ اور ان کے ساتھ لنڈن اور واشنگٹن بھی ایک پیغمبر کے انتظار میں ہیں۔جو سماجی مقصد اور اصلاح کا جھنڈا لئے ہوئے عیسی کی طرح کا شتکار کو صرف یہ کہہ کر ہوش میں لائے کہ جاگ ! جاگ!! اور طاقت کا مظاہرہ کر “ 66 ( بحوالہ رسالہ نگار جنوری فروری ۱۹۵۱ء)