جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 502 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 502

502 ہمارے غمخوار اور خیر خواہ خلیفہ نے آپ کے لئے ہاں آپ کی نازک و پُر درد حالت پر رحم کھا کر آپ کے احساسات کو پُر درد حالت پر رحم کھا کر آپ کے احساسات کو پُر درد حالت پر رحم کھا کر آپ کے احساسات کو پُر لطف بنانے کے لئے ایک زنانہ اخبار جاری کرنے کا فیصلہ فرمایا ہے۔اب آپ پوری ہمت اور پورے جوش اور پورے استقلال سے اسے قدر دانی کے ساتھ ہاتھوں ہاتھ لیں جس طرح مسجد لندن کے چندے میں بے مثل ہمت اور بے نظیر قربانی کا ثواب احمد یہ خواتین کو ملاحتی کہ دوسری ہمسایہ قوموں نے مثال کے طور پر اپنی مستورات میں اس محدود غریب قوم کی حقیر جنس کو پیش کیا اسی طرح ہاں ٹھیک اسی طرح سے اب اپنے اخبار کو فروغ دو۔“ آخر کار ۱۵ دسمبر ۱۹۲۶ء کو اس کا پہلا پر چہ شائع ہوا۔اس رسالہ کا نام ”مصباح رکھا گیا۔مصباح کے پہلے پرچہ کے اداریہ میں لکھا کہ:۔سلسلہ احمدیہ کے آرگن الفضل میں ایک عرصہ سے یہ تحریک ہو رہی تھی کہ عورتوں کے لئے الگ اخبار جاری کیا جائے۔والحمدللہ کہ ہمارے امام حضرت خلیفتہ اسی الثانی نے صدر انجمن احمدیہ کو ایک اور خواتین کے لئے جاری کرنے کا ارشاد فر مایا اور اس کا نام ” مصباح کا مصباح چراغ کو کہتے ہیں جو تار یک گھروں میں اجالا کرتا ہےاور امیر سے لے کر ایک غریب کے گھر تک اس کی یکساں ضرورت ہوتی ہے اور اسی کی روشنی میں سب کا روبار ہوتا ہے۔خدا کرے کہ ہمارا یہ اخبار مصباح بھی اسم با مسمی بن جائے اور یہ گھر گھر علم وفضل کی روشنی لے جائے۔“ مصباح کے اسی پر چہ میں لجنہ کی طرف سے یہ بھی اعلان کیا گیا کہ دوسرے شہروں میں بھی بہنوں کو چاہئے کہ لجنہ قائم کریں اور جلسہ سالانہ کا پروگرام بھی مصباح کے اسی پر چہ میں شائع کیا گیا۔مصباح کی سب سے پہلی خریدار اہلیہ عبدالحفیظ صاحب ویرووال ضلع امرتسر تھیں اور دسری اہلیہ با بوعلی محمد صاحب شہر فیروز پور تھیں۔یہ اخبار دو بار یکم اور پندرہ کو نکلتا تھا۔حجم سولہ صفحے اور سالانہ قیمت اڑھائی روپے تھی۔ایک کٹر آریہ سماجی اخبار تیج کی رائے مصباح کے متعلق یہ تھی کہ:۔”میرے خیال میں یہ اخبار اس قابل ہے کہ ہر ایک آریہ سماجی اس کو دیکھے۔اس کے مطالعہ سے انہیں احمدی عورتوں کے متعلق جو یہ غلط نہی ہے کہ وہ پردہ کے اندر بند رہتی ہیں اس لئے کچھ کام نہیں کرتیں فی الفور دور ہو جائے گی اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ یہ عورتیں باوجود اسلام کے ظالمانہ حکم کے طفیل پردہ کی قید میں رہنے کے کس قدر کام کر رہی ہیں اور ان میں مذہبی احساس اور تبلیغی جوش کس قدر ہے۔ہم استری سماج قائم کر کے مطمئن ہو چکے ہیں لیکن ہم کو معلوم ہونا چاہئے کہ احمدی عورتوں کی ہر جگہ باقاعدہ انجمنیں ہیں اور جو وہ کام کر رہی