جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 492
492 اپنے مقصد میں ضرور اس کو کامیابی ہوگی۔مضامین زور دار ہیں اور بڑی قابلیت سے لکھے گئے ہیں۔اس رسالہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ ایک پیشوائے مذاہب کے گھر سے شائع ہوتا ہے اور امام وقت کے صاحبزادے اس کو ایڈٹ کرتے ہیں۔“۔اخبار نیر اعظم ( مراد آباد ) نے لکھا۔بلا مبالغہ اسلامی رسالوں میں ریویو آف ریلیچز کے بعد اس کا شمار کرنا چاہئے۔مذہب اسلام کو اس کے اجراء سے بہت مدد ملے گی۔“ روزنامه الفضل ۱۹۱۳ء میں سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے مبارک ہاتھوں سے المفضل جاری ہوا۔حضرت خلیفہ مسیح الاول نے اس کا نام " الفضل رکھا او ۱۸ جون ۱۹۱۳ ء کو اس کا پہلا پر چہ شائع ہوا۔اس موقعہ پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے خدا تعالیٰ کے حضور جو التجائیں کیں اور جن پاک ارادوں اور اعلیٰ عزائم کا اظہار فرمایا ان کا کسی قدر راندازہ ذیل کے الفاظ سے لگایا جا سکتا ہے۔بسم حضور نے لکھا۔”خدا کا نام اور اس کے فضلوں اور احسانوں پر بھروسہ رکھتے ہوئے اس سے نصرت و توفیق چاہتے ہوئے میں الفضل جاری کرتا ہوں۔اپنے ایک مقتداء اور راہنما اپنے مولا کے پیارے بندے کی طرح اس برنا پائیدار میں الفضل کی کشتی کے چلانے کے وقت اللہ تعالیٰ کے حضور بصد بجز و انکسار یہ دعا کرتا ہوں کہ الله مجربها۔۔۔اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ اور اس کی برکت سے اس کا چلنا اور لنگر ڈالنا ہوتحقیق میرا رب بڑا بخشنے والا اور رحیم ہے۔اے میرے قادر مطلق خدا اے میرے طاقتور بادشاہ اے میرے رحمن و رحیم مالک۔اے میرے رب میرے مولا میرے ہادی۔میرے رازق میرے حافظ میرے ستار میرے بخشنہار ہاں اے میرے شہنشاہ جس کے ہاتھوں میں زمین و آسمان کی کنجیاں ہیں اور جس کے اذن کے بغیر ایک ذرہ اور ایک پتہ نہیں ہل سکتا جو سب نفعوں اور نقصانوں کا مالک ہے۔جس کے ہاتھ میں سب چھوٹوں اور بڑوں کی پیشانیاں ہیں جو پیدا کرنے والا اور مارنے والا ہے جو مار کے پھر جلائے گا اور ذرہ ذرہ کا حساب لے گا۔جو ایک ذلیل بوند سے انسان کو پیدا کرتا ہے جو ایک چھوٹے سے بیج سے بڑے بڑے درخت اگاتا ہے ہاں اے میرے دلدار میرے محبوب خدا تو دلوں کا واقف ہے اور میری نیتوں اور ارادوں کو جانتا ہے۔میرے پوشیدہ رازوں سے واقف