جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 491 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 491

491 تشحید الاذہان قادیان سے سہ ماہی نکلنا شروع ہوا ہے جس کا پہلا نمبر یکم مارچ کو شائع ہو گیا ہے اس سلسلہ کے نوجوانوں کی ہمت کا نمونہ ہے۔خدا تعالیٰ اس میں برکت دے۔چندہ سالانہ ۱۲؎ (آنے) ہے۔اس رسالہ کے ایڈیٹر مرزا بشیر الدین محمود احمد حضرت اقدس کے صاحبزادہ ہیں اور پہلے نمبر میں چودہ صفحوں کا ایک انٹروڈکشن ان کی قلم سے لکھا ہوا ہے۔جماعت تو اس مضمون کو پڑھے گی مگر میں اس مضمون کو مخالفین سلسلہ کے سامنے بطور ایک بین دلیل کے پیش کرتا ہوں جو اس سلسلہ کی صداقت پر گواہ ہے۔“ اس وقت صاحبزادہ کی عمر اٹھارہ انیس سال کی ہے اور تمام دنیا جانتی ہے کہ اس عمر میں بچوں کا شوق اور امنگیں کیا ہوتی ہیں۔زیادہ سے زیادہ ! کالجوں میں پڑھتے ہیں تو اعلی تعلیم کا شوق اور آزادی کا خیال ان کے دلوں میں ہوگا۔مگر دین کی یہ ہمدردی اور اسلام کی حمایت کا یہ جوش جو اوپر کے بے تکلف الفاظ سے ظاہر ہو رہا ہے ایک خارق عادت بات ہے۔صرف اس موقعہ پر نہیں بلکہ میں نے دیکھا ہے کہ ہر موقع پر یہ دلی جوش ان کا ظاہر ہو جاتا ہے۔چنانچہ ابھی میر محمد اسحاق کے نکاح کی تقریب پر چند اشعار انہوں نے لکھے تو ان میں یہی دعا ہے کہ اے خدا تو ان دونوں اور ان کی اولادکو خادم دین بنا۔برخوردار عبدالحی کی آمین کی تقریب پر اشعار لکھے تو ان میں یہی دعا بار بار کی ہے کہ اسے قرآن کا سچا خادم بنا ایک اٹھارہ برس کے نو جوان کے دل میں اس جوش اور امنگوں کا بھر جانا معمولی امر نہیں کیوں کہ یہ زمانہ سب سے بڑھ کر کھیل کود کا زمانہ ہے۔اب وہ سیاہ دل لوگ جو حضرت مرزا صاحب کو مفتری کہتے ہیں اس بات کا جواب دیں کہ اگر یہ افتراء ہے تو یہ سچا جوش اس بچہ کے دل میں کہاں سے آیا ؟ جھوٹ تو ایک گند ہے پس اس کا اثر تو چاہئے تھا کہ گندہ ہوتا نہ کہ ایسا پاک اور نورانی جس کی کوئی نظیر ہی نہیں ملتی۔اگر ایک انسان افتراء کرتا ہے تو اگر چہ وہ باہر کے لوگوں سے افتراء کو چھپا بھی لے مگر اپنے ہی بچوں سے جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتے ہیں چھپا نہیں سکتا۔وہ اس کی ہر ایک حرکت اور سکون دیکھتے ہیں۔ہر ایک گفتگوکو سنتے ہیں۔ہر موقع پر اس کے خیالات کو ظاہر ہوتا ہوا دیکھتے ہیں۔پس اگر افتراء ہو تو ضرور ہے کہ وہ افتراء کسی نہ کسی وقت اس کے اپنے بچوں یا بیوی پر ظاہر ہو جائے۔اے بدقسمت لوگو! غور کرو! کیا مفتری کی اولاد جو اس کے افتراء کے زمانہ میں پرورش پائے ایسی ہوا کرتی ہے؟ کیا تمہارے دل انسانی دل نہیں جو ان باتوں کو سمجھ نہیں سکتے اور ان بچے خیالات کا ان پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔کیوں تمہاری سمجھیں الٹی ہوگئی ہیں۔غور کرو! کہ جس کی تعلیم اور تربیت کا یہ پھل ہے وہ کا ذب ہو سکتا ہے۔اگر وہ کا ذب ہے تو پھر دنیا میں صادق کا کیا نشان ہے؟“ ۲۔مولوی عبد اللہ العمادی نے لکھا۔مارچ ۱۹۰۶ء سے یہ رسالہ قادیان ضلع گورداسپور سے ماہوار اردو میں شائع ہوتا ہے۔جس غرض کے لئے یہ رسالہ جاری ہوا ہے وہ نہایت اہم ہے لیکن جس طرز پر اس کی ابتداء ہوئی ہے اس سے امید ہوتی ہے کہ