جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 484
لمحات تک زندہ رکھا۔484 الحکم کے ابتدائی حالات کے بارے میں حضرت شیخ یعقوب علی صاحب لکھتے ہیں۔اگست ۱۸۹۷ء کو ہنری مارٹن کلارک نے ایک نالش حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف کر دی۔میں نے اس مقدمہ کے حالات دوسرے جنگ مقدس کے نام سے لکھے۔اس وقت مجھے سلسلہ کی ضروریات کے اعلان اور اظہار کے لئے اور اس پر جو اعتراضات پولٹیکل اور مذہبی پہلو سے کئے جاتے تھے ان کے جوابات کے لئے ایک اخبار کی ضرورت محسوس ہوئی۔چنانچہ اکتوبر ۱۸۹۷ء میں الحکم جاری کر دیا۔اس وقت گورنمنٹ پریس کے خلاف تھی اور موجودہ پریس ایکٹ اس وقت بھی قریب تھا کہ پاس ہو جاتا۔تاہم ان مشکلات میں میں نے خدا پر بھروسہ کر کے امرتسر سے اخبار الحکم جاری کر دیا ۱۸۹۷ء کے آخر میں روزانہ پیسہ اخبار کے مکر را جراء کی تجویز ہو چکی تھی اور منشی محبوب عالم صاحب کی خواہش کے موافق میں نے پیسہ اخبار کے ایڈیٹوریل سٹاف میں جانا منظور کر لیا تھا۔میرا خیال تھا کہ الحکم ہیڈ کوارٹر لا ہور بدل دینا چاہئے۔اور محض اس خیال سے میں نے پیسہ اخبار کے ساتھ تعلق کرنا گوارا کر لیا تھا۔مگر ۱۸۹۷ء کے دسمبر میں جب جلسہ سالانہ پر قادیان آیا تو یہاں ایک مدرسہ کے اجراء کی تجویز ہوئی اور اس کے لئے خدمات کے سوال پر میں نے اپنی خدمات پیش کر دیں اور اس طرح قدرت نے مجھے دیار محبوب میں پہنچا دیا۔الحکم کے اجراء کے وقت مجھے بہت ڈرایا گیا تھا کہ مذہبی مذاق کم ہو چکا ہے اور احمدیت کے ساتھ عام دشمنی پھیل چکی ہے اس لئے الحکم کا میاب نہ قادیان میں ایڈیٹر الحکم جنوری ۱۸۹۸ء میں آ گیا اور پیسہ اخبار کے ساتھ جو جدید تعلق پیدا کرلیا گیا ہوگا۔تھا اسے اور لاہور کے دیگر منافع کو قادیان پر قربان کر دیا اور الحمداللہ میں اس سودے میں نفع مند ہوں۔۔قادیان میں اس وقت پریس کی سخت تکالیف تھیں۔نہ پریس ملتا تھا نہ گل کش اور نہ کا تب اور نہ یہ لوگ قادیان آ کر رہنا چاہتے تھے۔تاہم ایڈیٹر الحکم ان مشکلات کا مقابلہ کرتارہا۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب کو قدرت نے زود نویسی کا زبردست جو ہر ودیعت کر رکھا تھا جسے حضرت مسیح موعود کے فیض صحبت نے چار چاند لگا دیئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام خواہ دربار شام میں ارشاد فرماتے یا سیر میں چلتے ہوئے گفتگو فرماتے آپ حضور کے ان ملفوظات وارشادات کو کمال برقی رفتاری سے قلمبند کر کے فوراً احکام میں شائع کر دیتے۔الحکم کے ذریعہ سے حضور کی تازہ بتازہ وحی کی اشاعت کا بھی اس میں خاص اہتمام ہو گیا۔اسی طرح مرکز کے کوائف اور بزرگان سلسلہ بلکہ سید نا حضرت مسیح موعود کے گراں قدر مضامین بھی چھپنے لگے۔اور جماعت کے احباب گھر بیٹھے حضرت مسیح موعوڈ کے روحانی مائدہ سے لطف اندوز ہونے لگے۔اس طرح یہ اخبار حضرت مسیح موعود کی کتب۔سلسلہ احمدیہ کی تاریخ کا مستند ترین ذخیرہ اور