جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 441 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 441

441 انسان کی شان سے بعید نہیں اور یہ کہ اپنے ہاتھ سے کام کرنا انسان کیلئے موجب عزت ہے نہ کہ باعث خجالت۔سوم :۔جماعت کے ناخواندہ لوگوں کی پرائیویٹ تعلیم کا انتظام کرنا تا کہ کوئی احمدی ایسا نہ رہے جوان پڑھ ہو۔بلکہ ہر احمدی تعلیم کے اقل معیار کو پہنچ جائے۔اور اس غرض کے لئے لوگوں کی آنریری خدمات لے کر رات کے پرائیویٹ مدارس وغیرہ قائم کرنا۔سوخدا کے فضل سے یہ سارے کام ” خدام الاحمدیہ کے ذریعہ بخوبی سرانجام پارہے ہیں۔حضرت مصلح موعود نے خدام الاحمدیہ کے لئے یہ مائو مقرر فرمایا ہے:۔قوموں کی اصلاح نو جوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہوسکتی۔خدام الاحمدیہ کا نظام رکنیت:۔اس تنظیم میں پندرہ سال سے زائد عمر سے لے کر چالیس سال تک کی عمر کے ہر مبائع احمدی کا شامل ہونا لازمی ہوتا ہے۔اس تنظیم کا ہر رکن خادم کہلاتا ہے۔مجلس:۔ہر اس مقام پر جہاں ایک سے زائد خدام موجود ہوں یا ایک خادم اور دو اطفال ہوں وہاں مقامی مجلس خدام الاحمدیہ قائم ہونی ضروری ہوتی ہے۔حلقہ :۔اگر قیادت کا حلقہ بہت وسیع ہو یا خدام کی تعداد اتنی زیادہ ہو کہ اکٹھی تنظیم مشکل ہو تو اس مجلس کے علاقہ کو مناسب حلقوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔تا کہ کام میں آسانی پیدا ہو۔حزب:۔ہر مجلس میں حسب حالات کم و بیش دس اخدام پر مشتمل حزب بنا کر اس پر ایک نگران مقرر کر دیا جاتا ہے۔تا کہ ہر خادم سے رابطہ میں آسانی رہے۔کوئی بھی خادم خواہ وہ کسی عہدہ پر فائز ہے وہ حزب کی تقسیم سے باہر نہیں ہوتا۔در حقیقت حزب تنظیم کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔شعبہ جات : مجلس خدام الاحمدیہ کا کام مندرجہ ذیل شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے:۔(۱) اعتماد (۲) تجنید (۳) تربیت (۴) اصلاح وارشاد (۵) تعلیم (۶) خدمت خلق (۷) مال (۸) تحریک جدید (۹) وقار عمل (۱۰) صنعت و تجارت (۱۱) صحت جسمانی (۱۲) اشاعت (۱۳) اطفال (۱۴) محاسبہ(۱۵) امور طلباء(۱۶) عمومی۔