جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 399
399 ایک بار پھر اعلان کرتا ہوں تا کہ مالی امداد کی طرف بھی لوگوں کو توجہ ہو اور وقف کی طرف بھی لوگوں کو ۵) جنوری ۱۹۵۷ء مجموعه خطبات وقف جدید ص ۶) توجہ ہو۔“ حضور کے اس ارشاد پر احباب جماعت نے اپنے اپنے رنگ میں اخلاص کا اظہار کیا۔ان مخلصین میں سے ایک مکرم ملک صاحب خان صاحب نون مرحوم مغفور نے عرض کیا کہ حضور! اگر کوئی ایسی ضرورت پیش آئی تو پہلے ہم اپنے مکان کپڑے پچیں گے اور بعد میں آپ کی باری آئے گی۔حضرت فضل عمر نے ایک دوسرے موقع پر وقف جدید کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔یہ تحریک (وقف جدید ) جس قدر مضبوط ہو گی اس قدر خدا تعالیٰ کے فضل سے صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید کے چندوں میں اضافہ ہوگا۔کیونکہ جب کسی کے دل میں نور ایمان داخل ہو جائے تو اس کے اندر مسابقت کی روح پیدا ہو جاتی ہے۔اور وہ نیکی کے ہر کام میں حصہ لینے کیلئے تیار (۳) جنوری ۱۹۶۲ ء از مجموعه خطبات وقف جدید ص ۹۶) 66 ہو جاتا ہے۔" اسی طرح ایک اور موقعہ پر فرمایا:۔پس میں احباب جماعت کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ اس تحریک کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کی طرف پوری توجہ دیں اور اس کو کامیاب بنانے میں پورا زور لگائیں اور کوشش کریں کہ کوئی فرد جماعت ایسا نہ رہے جو صاحب استطاعت ہوتے ہوئے اس چندے میں حصہ نہ لے۔“ (الفصل ۱۲ فروری ۱۹۶۰ء) شعبه معلمین وقف جدید وقف جدید کا بنیادی مقصد دیہاتی سطح پر احباب جماعت کی تعلیم و تربیت اور دعوت الی اللہ ہے اس کے لئے حضرت مصلح موعود نے وقف کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا:۔”اب میں ایک نئے قسم کے وقف کی تحریک کرتا ہوں میں نے اس سے قبل ایک خطبہ جمعہ ( ۹ر جولائی ۱۹۵۷ء ) میں بھی اس کا ذکر کیا تھا۔اور اس وقت بہت سے لوگوں نے بغیر تفصیلات سنے اپنے آپ کو پیش کر دیا تھا۔میں نے ان کو کہہ دیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی اور میں نے جلسہ سالانہ کے موقعہ پر اس نئے وقف کی تفصیلات بیان کر دیں۔تو ان تفصیلات کوسن کر اگر تم میں ہمت پیدا ہوئی تو پھر تم اپنے آپ کو پیش کر دینا۔میری اس وقف سے غرض یہ ہے کہ پشاور سے لے کراچی تک ہمارے معلمین کا جال پھیلا دیا