جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 398
398 تحریک وقف جدید تحریک وقف جدید حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدخلیہ اسیح الثانی کی بابرکت تحریکات میں سے ایک بہت ہی اہم اور مبارک تحریک ہے جو ۱۹۵۷ء میں القاء الہی کے تحت آپ نے جاری فرمائی۔اس عظیم تحریک کے مقاصد عالیہ میں سے ایک بڑا مقصد دیہاتی سطح پر احباب جماعت کی تعلیم و تربیت تھا۔جیسا کہ حضرت خلیفة اصبح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ وقف جدید کے مقاصد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔یہ تحریک بنیادی طور پر دو اغراض سے جاری کی گئی۔پہلی غرض تو یہ تھی کہ پاکستان کے دیہاتی علاقوں میں چونکہ یہ ممکن نہیں تھا کہ ہر جگہ ایک مربی کو تعینات کیا جائے۔اس لئے خصوصا نئی نسل میں تربیت کی کمزوری کے آثار ظاہر ہونے شروع ہو گئے نہ صرف نئی نسلوں میں بلکہ تقسیم ہند کے بعد نوجوان بھی کئی قسم کی معاشرتی خرابیوں کا شکار ہوئے اور بنیادی طور پر دین کے مبادیات سے بھی بعض صورتوں میں وہ غافل ہو گئے۔چنانچہ حضرت فضل عمر نے بشدت یہ محسوس کیا کہ جب تک کوئی ایسی تحریک نہ جاری کی جائے جس کا تعلق خالصتاً دیہاتی تربیت سے ہواس وقت تک دیہاتی علاقوں میں احمدیت کے مستقبل کے متعلق ہم بے فکر نہیں ہو سکتے چنانچہ حضور نے جب اس تحریک کا آغاز فرمایا تو اولین ممبران وقف جدید میں خاکسار کو بھی مقرر فرمایا۔اور ابتدائی نصیحتیں جو مجھے کیں ان میں ایک تو دیہاتی تربیت کی طرف توجہ دینے کے متعلق ہدایت تھی۔اور دوسرے ہندوؤں میں دعوت الی اللہ کی خاص طور پر تاکید کی گئی تھی۔“ الفضل۔خطبہ جمعہ ۲۷ دسمبر ۱۹۸۵ء) تحریک وقف جدید کی اہمیت بانی وقف جدید حضرت خلیفتہ اسیح الثانی اس با برکت تحریک کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔یہ کام خدا تعالیٰ کا ہے اور ضرور پورا ہو کر رہے گا۔میرے دل میں چونکہ خدا تعالیٰ نے یہ تحریک ڈالی ہے اس لئے خواہ مجھے اپنے مکان بیچنے پڑیں کپڑے بیچنے پڑیں میں اس فرض کو تب بھی پورا کروں گا۔اگر جماعت کا ایک فرد بھی میرا ساتھ نہ دے تو خدا تعالیٰ ان لوگوں کو الگ کر دے گا جو میرا ساتھ نہیں دے رہے اور میری مدد کے لئے فرشتے آسمان سے اتارے گا۔پس میں اتمام حجت کے لئے