جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 371 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 371

371 محمد ظفر اللہ خاں صاحب کو تحریک جدید انجمن احمدیہ کے ممبر مقرر کرتا ہوں۔ان کے اختیارات دوسرے ممبروں کے مطابق ہوں گے۔اور ان کا کورم حقیقی کو رم سمجھا جائے گا۔خاکسار مرزا محمود احمد ۳۰-۸-۴۷ تقسیم ہند اور تحریک جدید ۱۹۴۷ء میں جماعت کے کثیر حصہ کو مشرقی پنجاب سے ہجرت کر کے پاکستان میں پناہ گزین ہونا پڑا۔یہ زمانہ تحریک جدید کے لئے بہت صبر آزما تھا کیونکہ تقسیم ملک کی وجہ سے نظام درہم برہم ہو چکا تھا۔ان حالات میں تحریک جدید کے دفا تر نہایت کسمپرسی کے عالم میں جو دھامل بلڈنگ لاہور میں قائم کئے گئے تھے۔آمد میں یکا یک کمی واقع ہوگئی۔اور اخراجات بے تحاشہ بڑھ گئے اور بیرونی مشنوں کو امداد دینے کا سلسلہ بھی وقتی طور پر معطل ہوگیا۔مگر تحریک جدید کے مجاہدین نے اس موقعہ پر غیر معمولی صبر وقتل اور وفا شعاری کا ثبوت دیا اور بیرونی مشن بھی جلد ہی اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے۔تحریک جدید کی پاکستان میں رجسٹریشن پاکستان میں ۱۹ فروری ۴۸۔۱۹۴۷ء کو ۱۸۶۰ء کی دفعہ ۲۱ کے تحت تحریک جدید کی رجسٹریشن ہوئی اور اس کا پورا نام "تحریک جدید انجمن احمدیہ پاکستان“ رکھا گیا۔اس کا دائرہ عمل سوائے ہندوستان کے بقیہ تمام دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔تحریک جدید انجمن احمدیہ کے سر پرست اعلیٰ حضرت خلیفتہ المسیح بنفس نفیس ہوتے ہیں۔تحریک جدید کا کام مختلف شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر شعبہ کا ایک انچارج مقرر ہے جو وکیل“ کہلاتا ہے۔متعلقہ شعبے کا وکیل اپنی وکالت کے جملہ امور کا نگران اور ذمہ وار ہوتا ہے۔فروری ۱۹۵۰ء میں حضرت خلیفہ اسیح نے اپنے قلم مبارک سے تحریک جدید کے مختلف شعبوں کیلئے ایک مفصل دستورالعمل تجویز فرمایا۔اس وقت حسب ذیل وکالتیں قائم کی گئیں۔وکالت مال۔وکیل المال اول ۲ وکیل المال ثانی ۳۔وکالت جائیداد وکالت دیوان ، وکالت تعلیم ، وکالت تجارت ، وکالت صنعت ، وکالت قانون ، وکالت تبشیر وکالت اشاعت۔