جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 2 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 2

2 وَسَلَّمَ : لَيَاتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي مَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ حَدٌ وَالنَّعْلِ بِالنَّعْلِ حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمَّهُ عَلَانِيَةً لَكَانَ فِي أُمَّتِي مَنْ يَّصْنَعُ ذَلِكَ وَ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَ سَبْعِينَ مِلَّةً وَ تَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً كُلُّهُمْ فِى النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً ، قَالُوا: مَنْ هِيَ يَارَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَ أَصْحَابِي۔(ترمذی کتاب الايمان باب افتراق هذه الامة ص ۸۹/۲ جامع الصغير ص۱۱۰/۲ مصرى) (ابن ماجه کتاب الفتن باب افتراق الامم ص ۲۸۷) حضرت عبد اللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میری امت پر بھی وہ حالات آئیں گے جو بنی اسرائیل پر آئے تھے جن میں ایسی مطابقت ہوگی جیسے ایک پاؤں کے جوتے کی دوسرے پاؤں کے جوتے سے ہوتی ہے یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی بد بخت اپنی ماں سے بدکاری کا مرتکب ہوا تو میری امت میں سے بھی کوئی ایسا بد بخت نکل آئے گا۔بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔لیکن ایک فرقے کے سوا باقی سب جہنم میں جائیں گے۔صحابہ نے پوچھا یہ ناجی فرقہ کونسا ہے تو حضور نے فرمایا۔وہ فرقہ جو میری اور میرے صحابہ کی سنت پر عمل پیرا ہو گا۔عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال: لَتَتَّبِعُنَ سُنَنَ مِنْ قَبْلِكُمْ شِبُرًا شِبْرًا وَذِرَاعًا ذِرَاعًا حَتَّى لَوْدَخَلُوا حُجْرَ ضَبْ تَبِعْتُمُوهُمْ: قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارِي، قَالَ: فَمَنْ؟ (بخارى كتاب الاعتصام والسنة باب قَولِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنٌ مَنْ كَانَ قَبْلِكُمْ) حضرت ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم لوگ اپنے سے پہلی اقوام کے طور طریقوں کی اس طرح پیروی کرو گے کہ سر موفرق نہ ہو گا اس طرح جس طرح ایک بالشت دوسری بالشت کی طرح اور ایک ہاتھ دوسرے ہاتھوں کی طرح ہوتا ہے اور ان میں کوئی فرق نہیں ہوتا یہاں تک کہ اگر بالفرض وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوں گے تو تم بھی ان کی پیروی کرو گے۔ہم نے کہا کہ یا رسول اللہ کیا آپ کی مراد یہود اور نصاری سے ہے فرمایا اور کون؟ مندرجہ بالا احادیث کے مطالعہ سے یہ بات بخوبی سمجھ میں آ سکتی ہے کہ امت محمدیہ پر ایک ایسے دور کا آنا مقدر تھا جسے روحانی لحاظ سے دور خزاں کا نام دیا جا سکتا ہے۔ایسے حالات کے پیش نظر ضرور تھا کہ ایک مصلح کا ظہور بھی ہوتا جس کی بعثت قرآن و حدیث اور بزرگان سلف کے اقوال سے بھی ثابت ہے۔