جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 361 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 361

361 کیونکہ اس وقت تم میں جرات و دلیری پیدا نہیں ہو سکتی جب تک تم اپنی جان کو ایک بے حقیقت چیز سمجھ کر دین کے لئے اسے قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار نہ ہو۔“ ۹۔وقف رخصت موسمی ( خطبه جمعه فرموده ۱۱ جنوری ۱۹۳۵ء الفضل ۲۴ جنوری ۱۹۳۵ء) اپنی زندگیوں کو خدمت دین کے لئے وقف کرو اور سال میں سے مہینہ دو مہینے یا تین مہینے تبلیغ کے لئے دو تا انہیں ایک دو یا تین ماہ کے لئے مختلف مقامات پر تبلیغ کے لئے بھیجا جا سکے جس قدر ملازم، زمیندار تاجر اور پیشہ ور اور جنہیں چھٹیاں مل سکتی ہیں، میں ان سب کو تحریک کرتا ہوں کہ ایک دو یا تین ماہ جتنا عرصہ کوئی دے سکے تبلیغ کے لئے دیں۔۔۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنی چھٹیوں کو تبلیغ کے لئے وقف کر دیں۔“ ( تقریر فرموده ۲۶ دسمبر ۱۹۳۵، مطبوعه الفضل ۱۴/ مارچ ۱۹۳۶ء) ۱۰۔صاحب پوزیشن لیکچر دیں وو۔۔۔۔۔۔جو دوست لیکچر دینے کی قابلیت رکھتے ہیں اور اپنے عہدہ یا کسی علم وغیرہ کے لحاظ سے لوگوں میں پوزیشن رکھتے ہوں۔یعنی ڈاکٹر ہوں ، وکلاء ہوں یا اور ایسے ہی معزز کاموں پر یا ملازمتوں پر ہوں۔جن کو لوگ عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہوں ایسے لوگ اپنے آپ کو پیش کریں یا مختلف مقامات کے جلسوں میں مبلغوں کے سوا ان کو بھیجا جائے اور ان سے تقریریں کرائی جائیں کیونکہ تقریر کرنے والا اگر کوئی وکیل یا ڈاکٹر یا کوئی عہدیدار ہو تو لوگوں میں یہ احساس پیدا ہوگا کہ اس جماعت کے سب افراد میں خواہ وہ کسی طبقہ کے ہوں دین سے رغبت اور واقفیت پائی جاتی ہے اور خواہ ان کے منہ سے وہی باتیں نکلیں جو مولوی بیان کرتے ہیں۔مگر ان کا اثر بہت زیادہ ہوگا۔“ ۱۱۔ریز ورفنڈ وو ( خطبه جمعه ۲۰ / دسمبر ۱۹۳۵ء الفضل ۲۵ / دسمبر ۱۹۳۵ء)۔۔۔۔موجودہ حالات اور بعض مجبوریوں کی وجہ سے ضروری ہے کہ ہمارا ایک مستقل ریزرو فنڈ ہو۔جس کی آمدنی سے مستقل اخراجات چلائے جائیں اور ہنگامی کاموں کے لئے چندہ ہو۔اخلاقی لحاظ سے بھی۔یعنی جماعت کی اخلاقی حالت کو محفوظ رکھنے نیز کام کی وسعت کے لئے بھی ضروری ہے کہ ایک مستقل ریز روفنڈ قائم کیا جائے۔تحریک جدید کے متعلق میرا یہی خیال ہے کہ اس کے مستقل اخراجات ریز روفنڈ کی آمد سے ادا کرنے کا انتظام کیا جائے اور چندوں کا ایک ایک پیسہ