جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 341
341 ممبر ( سول )۔مکرم انجینئر نو ید اطہر شیخ صاحب۔ممبر (الیکٹریکل )۔مکرم انجینئر طارق محمود صاحب۔ممبر (مکینیکل ) مکرم انجینئز لیب احمد ظہیر صاحب۔ممبر ( ڈپلومہ آرکیکٹس ) - مکرم بشیر الدین کمال صاحب۔ممبر ( ڈپلومہ سول )۔مکرم راجہ ناصر احمد صاحب۔ممبرز ( متفرق انجینئر نگ ) مکرم انجینئر جلال الدین صادق صاحب۔مکرم انجینئر چوہدری نعمت اللہ صاحب مبرمکینیکل مکرم حفیظ الرحمن صاحب۔ممبر ( آرکیٹیکٹ )۔مکرم آرکیٹیکٹ ظفر احمد قاضی صاحب۔احمدی بلائینڈ زایسوسی ایشن پاکستان ( مجلس نابیناء) اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مجلس نابینا ربوہ پاکستان ۱۹۸۷ء میں قائم ہوئی۔جس کے قیام کا بنیادی مقصد احمدی نابینا احباب کی تعلیم و تربیت اور فلاح و بہبود تھا۔نیز ان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا اور معاشرے کا فعال اور مفید وجود بنانا تھا۔آنکھوں جیسی عظیم نعمت سے محروم ہونے اور دیگر اور بہت ساری مشکلات اور مسائل کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مجلس نابینا ان تمام مقاصد کے حصول میں بڑی کامیابی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف گامزن ہے اور آج خدا کے فصل سے مجلس نا بینا پاکستان احمدی نابینا حضرات کے لئے ایک سایہ دار چھت اور تعلیمی وتربیتی اکیڈمی کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔اور اس مجلس کی برکت سے احمدی نابینا حضرات صف اول کے شہری کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔الحمد للہ مکرم پروفیسر چوہدری خلیل احمد صاحب (مرحوم) مکرم حافظ محمد ابراہیم عابد صاحب مربی سلسلہ نیز مکرم حافظ محموداحمد ناصر صاحب مربی سلسلہ اس مجلس کے بانی کارکنان میں سے ہیں۔مکرم پروفیسر چوہدری خلیل احمد صاحب اس مجلس کے پہلے صدر تھے جو تاحیات صدر مجلس نابینا پاکستان رہے۔اسی طرح مکرم حافظ محمد ابراہیم عابد صاحب مربی سلسلہ اس مجلس کے پہلے جنرل سیکرٹری ہیں۔اور اب بھی بطور جنرل سیکرٹری اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔اور فی الحقیقت مکرم حافظ محمد ابراہیم عابد صاحب ہی اصل میں اس مجلس کے روح رواں ہیں۔جن کی محنت، کوشش اور دلچسپی سے یہ مجلس بڑی کامیابی سے اپنے سفر کو جاری رکھے ہوئے ہے۔اور اس مجلس کے ذریعہ سے پاکستان بھر کے احمدی نابینا حضرات کو ہر لحاظ سے فائدہ پہنچ رہا ہے۔خواہ وہ فائدہ تعلیم وتربیت سے تعلق رکھتا ہے یا فلاح و بہبود سے۔غرض یہ مجلس احمدی نابینا حضرات کے لئے بہت مفید ثابت ہو رہی ہے۔