جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 335
335 (Constitution) بھی بنوایا اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث سے منظوری حاصل کی۔مرکز کے علاوہ جلد ہی پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں لوکل چیپٹر معرض وجود میں آگئے۔۱۹۸۱ء کے جلسہ سالانہ ربوہ پر دوسرے روز بعد نماز مغرب وعشاء آپ نے پہلی مجلس عاملہ کا با قاعدہ انتخاب کروایا۔جس کی منظوری خلیفہ وقت نے عطا فرمائی۔یہ مجلس عاملہ تین سال کے لئے منظور ہوئی تھی یعنی ۸۴ ۱۹۸۲ ء کے لئے۔اس وقت دیگر شعبوں کی بھاری ذمہ داریوں کے علاوہ آپ صدر مجلس انصار اللہ مرکزیہ بھی تھے چنانچہ آپ کے منصب خلافت پر فائز ہونے کے بعد آپ ہی کی ہدایت کے مطابق کافی عرصہ صدر مجلس انصار اللہ مرکزیہ اور ( بعدۂ صدر مجلس انصاراللہ پاکستان ) اس ایسوسی ایشن کے سرپرست مقرر ہوتے رہے چنانچہ محترم چوہدری حمید اللہ صاحب ۱۹۸۲ء سے ۲۰۰۰ ء تک نگران رہے اس کے بعد محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب نگران مقرر ہوئے اور ا۲۰۰ء سے ۲۰۰۳ ء تک نگران رہے اس کے بعد محترم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب چھ سال تک نگران رہے۔جس کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے محترم چوہدری حمید اللہ صاحب وکیل اعلی تحریک جدید کو۲۰۱۰ء سے نگران مقرر فرمایا ہے۔ایسوسی ایشن کے اغراض و مقاصد یہ خالصہ پروفیشنل اور غیر سیاسی ایسوسی ایشن ہے جس کے اہم مقاصد یہ ہیں۔ا۔دین کو تقویت دینا اور آرکیٹکچر اور انجینئر نگ کے پیشہ کو ترقی دینا۔۲۔سائنسی انکشافات کو قرآن کریم کی روشنی میں پرکھنا اور نئی ایجادات کو قرآنی صداقتوں سے ہم آہنگ کرنا۔۳۔جماعت کی بڑھتی ہوئی فنی ضروریات آرکیٹکچر اور انجینئر نگ کے شعبہ جات میں پوری کرنا۔۴ تحقیق کرنا اور ریسرچ پیپر لکھنا اور اس قسم کی دیگر تنظیموں کے ساتھ علم کا تبادلہ کرنا۔۵ آرکیٹکچر اور انجینئر نگ کے طلباء کو پیشہ ورانہ منصوبہ بندی میں راہنمائی فراہم کرنا اور دیگر پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں معاونت کرنا۔۔ایسوسی ایشن کے ارکین کو جدید علوم اور اصول فن سے متعارف کروانا اور خوداعتمادی اور شجاعت اور ہمت پیدا کرنا تا کہ وہ اپنے فن اور ذاتی طرز عمل میں امتیاز پیدا کرسکیں۔ے۔اراکین میں حوصلہ، انتہائی فکر ومحبت اور وقف کی روح پیدا کرنا نیز دیانتداری اور صداقت اور محنت کو شعار بنانا اور پیشہ ورانہ اور ذاتی معاملات میں اللہ تعالیٰ سے نور اور راہنمائی حاصل کرنے کا شعور بیدار کرنا۔