جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 327
327 خون بہہ رہا تھا جس کو بند کرنے کے لئے دوسرے ہاتھ سے دبا رکھا تھا۔زخم کی وجہ کوئی تیز دھار آلہ تھا کسی نے اس سے پوچھا کہ کیا ہوا؟ تو اس نے عجیب لہجہ میں جواب دیا کہ انگل وڈھی گئی، مجھے اس کا لہجہ بہت عجیب لگا جو اس کی شکل اور لباس سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا تھا۔میں کبھی اس کے چہرہ اور لباس کی طرف دیکھتا اور کبھی اس کے لہجہ کی طرف توجہ دیتا۔مجھے دونوں میں کوئی مطابقت نہ دکھائی دی۔مجھے اس وقت تو کچھ علم نہ تھا کہ یہ لڑکا کون ہے البتہ یہ راز مجھ پر بہت بعد میں اس وقت کھلا جب پارٹیشن کے بعد میں تعلیم الاسلام کالج لاہور میں تعلیم پا رہا تھا اور ایک روز ہمارے کالج میں محترم پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب جو اس وقت گورنمنٹ کالج لاہور میں ریاضی کے شعبہ کے صدر تھے ایک لیکچر دینے تشریف لائے۔انہیں دیکھتے ہی مجھے احساس ہوا کہ یہ تو وہی لڑکا ہے جس نے کہا تھا۔انگل وڈھی گئی۔بعد میں اس بات کا بھی علم ہوا کہ محترم پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب، حکیم فضل الرحمن صاحب کے بھانجے ہیں جن کی ملکیتی عمارت میں دار الصناعۃ قائم کیا گیا تھا۔میں نے دوسری اور تیسری جماعت قادیان سے پاس کی۔چوتھی اور پانچویں جماعت فیروز پور سے اور چھٹی جماعت میں پھر قادیان آ گیا۔جب داخلہ کی غرض سے میں اپنے والد صاحب کے ساتھ ہیڈ ماسٹر صاحب کے کمرہ میں داخل ہوا تو دیکھا کہ وہاں ہیڈ ماسٹر حضرت مرزا ناصر احمد صاحب جو بعد میں خلیفہ اسیح الثالث ہوئے موجود تھے۔جنہوں نے مجھے داخلہ دیا۔غالباً اس وقت وہ وہاں قائم مقام ہیڈ ماسٹر کے طور پر کام کر رہے تھے۔کچھ عرصہ بعد سکول کے اصل ہیڈ ماسٹر حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب بھٹی جن کا شمار ۳۱۳ رفقاء میں ہوتا ہے نے ہیڈ ماسٹر کا چارج لے لیا اور اپنی ریٹائر منٹ تک وہاں ہیڈ ماسٹر رہے۔دار الصناعة کا احیائے نو یہ اللہ تعالیٰ کا سراسر فضل و احسان ہے کہ سیدنا حضرت مصلح موعود نے ۱۹۳۵ء میں قادیان کی مبارک بستی میں نوجوانوں کو مختلف ہنر سکھانے اور مفید شہری بنانے کے لئے جس ادارہ کی بنیاد رکھی تھی۔مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان کو از سرنو اس کے آغاز کی توفیق ملی ربوہ میں بے روزگار خدام کو ہنر سکھانے کے لئے کسی مستند ادارے کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔جس کی سفارشات چار سال قبل مرکزی مجلس شورای نے بھی سید نا حضرت خلیفہ مسیح الرابع کی خدمت میں پیش کی تھی۔اس پر مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز (جب آپ ناظر اعلیٰ تھے ) تو آپ کی خواہش پر ایک ادارے کا قیام عمل میں لائی۔جس کی منظوری سید نا حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے عطا فرمائی اور از راہ شفقت اس ادارے کا نام دار الصناعة تجویز فرمایا۔یہ ادارہ قومی اور موجودہ فی ضروریات کے عین مطابق علمی اور فنی تقاضوں کو مدنظر