جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 281
281 جماعت احمدیہ کا جلسہ سالانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ۱۸۸۲ء میں ماموریت کا پہلا الہام ہوا۔اس کے معا بعد آپ کو درج ذیل تین الہامات ہوئے۔یہ تینوں الہامات بھی ۱۸۸۲ء کے ہیں۔لیکن ان کا ذکر یہاں اس لئے کرنا مقصود ہے کہ ان الہامات کا جلسہ سالانہ سے تعلق ہے وہ تین الہام اس طرح ہیں۔اول : يَاتِيكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ يَا تُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ (روحانی خزائن جلد نمبر ص ۲۶۲) یعنی تیرے پاس دور دراز سے لوگ آویں گے اور تیری امداد کے لئے تجھے دور دراز سے سامان پہنچیں گے حتی کہ لوگوں کی آمد اور اموال و سامان کے آنے سے قادیان کے راستے گھس گھس کر گہرے ہو جائیں گے۔“ یہ الہام اس وقت کا ہے جبکہ قادیان میں کسی کی آمد و رفت نہیں تھی اور قادیان کا دور افتادہ گاؤں دنیا کی نظروں سے بالکل محجوب و مستور تھا مگر حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ہی لوگوں نے اس الہام کو پورا ہوتے دیکھ لیا اور ہنوز اس الہام کی تکمیل کا سلسلہ جاری ہے اور نہ معلوم اس کی انتہاء کن عجائبات قدرت کی حامل ہوگی۔دوسرے اور تیسرے الہام کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی کتاب سراج منیر میں اس طرح فرماتے ہیں:۔براہین کے صفحہ ۲۴۲ میں مرقوم ہے وَلَا تُصَعِرُ لِخَلْقِ اللَّهِ وَلَا تَسْتَمُ مِنَ النَّاسِ اور اس کے بعد الہام ہوا۔وَوَسِعُ مَكَانَک یعنی اپنے مکان کو وسیع کر لے۔“ اس پیشگوئی میں صاف فرما دیا کہ وہ دن آتا ہے کہ ملاقات کرنے والوں کا بہت ہجوم ہو جائے گا۔یہاں تک کہ ہر ایک کا تجھ سے ملنا مشکل ہو جائے گا۔پس تو اس وقت ملال ظاہر نہ کرنا۔اور لوگوں کی ملاقات سے تھک نہ جانا۔سبحان اللہ یہ کس شان کی پیشگوئی ہے اور آج سے سترہ برس پہلے اس وقت بتلائی گئی ہے کہ جب میری مجلس میں شاید دو تین آدمی آتے ہوں گے اور وہ بھی کبھی کبھی۔اس سے کیسا علم غیب خدا کا ثابت ہوتا ہے۔“ (سراج منیر روحانی خزائن جلد ۲ ص ۷۳ ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت احمدیہ کی تعلیم و تربیت ، دعوت الی اللہ اور دیگر کئی دینی مقاصد کے پیش نظر ۱۸۹۱ء میں جلسہ سالانہ کی بنیاد رکھی۔یہ جلسہ مورخہ ۲۷ دسمبر ۱۸۹۱ء کو مسجد اقصی قادیان میں منعقد ہوا۔جس میں صرف ۷۵ اصحاب شریک ہوئے۔اس جلسہ میں حضرت مولوی عبدالکریم سیالکوٹی صاحب نے