جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 275
275 مدرسة الحفظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دلی خواہش تھی کہ کوئی ایسا انتظام ہو جس کے ماتحت لوگ قرآن کریم حفظ کریں۔چنانچہ حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب نے ایک مرتبہ آپ سے عرض کیا کہ میں چاہتا ہوں کہ مدرسہ تعلیم الاسلام میں ایک حافظ قرآن مقرر کیا جائے جو قرآن مجید حفظ کرائے۔آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”میرا بھی دل چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ جو چاہے گا کرے گا“۔تاریخ احمدیت ، جلد چہارم ، صفحہ ۱۷۷) حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے یہ تحریک فرمائی تھی کہ قرآن کریم کا چھ چا اور اس کی برکات کو عام کرنے کے لئے جماعت میں بکثرت حفاظ ہونے چاہئیں۔سید نا حضرت مسیح موعود کی دلی تمنا کی تکمیل کے لئے حضرت مصلح موعود نوراللہ مرقدہ کی تحریک کے نتیجہ میں خلافت ثانیہ کے آغاز میں ۱۹۲۰ء سے قبل حافظ کلاس کی ابتداء ہوچکی تھی۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب (خلیفہ اسیح الثالث ) نے اسی کلاس سے ۱۷ / اپریل ۱۹۲۲ء کو تیرہ سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کیا۔آپ کے ساتھ بارہ طلباء اس حافظ کلاس میں شامل تھے۔اس وقت مکرم حافظ سلطان حامد صاحب ملتانی حافظ کلاس کے استاد تھے۔(بحوالہ قادیان گائید صفحہ ۹۱) ( جماعت احمدیہ میں مدرستہ الحفظ کا آغاز انتہائی بابرکت تھا جس کی پہلی کلاس میں وہ طالب علم بھی تھا جسے خدا تعالیٰ نے مسند خلافت پر متمکن فرمایا ) ۱۹۳۲ء میں مکرم حافظ سلطان حامد صاحب ملتانی کی وفات کے بعد مکرم حافظ کرم الہی صاحب آف گولیکی ضلع گجرات اس کلام کے معلم مقرر ہوئے۔بعد ازاں ۱۹۳۵ء سے حافظ کلاس مدرسہ احمدیہ کے زیر انتظام مکرم حافظ شفیق احمد صاحب کی نگرانی میں جاری رہی اور قیام پاکستان کے بعد احمدنگر اور بعد ازاں بیت مبارک ربوہ میں منتقل ہو گئی۔۱۹۶۹ء میں حافظ صاحب موصوف کی وفات کے بعد کچھ عرصہ مکرم حافظ محمد یوسف صاحب اس کلاس کو پڑھاتے رہے۔جون ۱۹۶۹ء میں یہ سعادت مکرم حافظ قاری محمد عاشق صاحب کے حصہ میں آئی۔محترم قاری صاحب کی سرکردگی میں اس درس گاہ نے باقاعدہ ایک مدرسہ کی شکل اختیار کر لی۔یہ مدرسہ پہلے جامعہ احمدیہ کے کواٹرز کے ایک کمرے میں قائم رہا پھر طلباء کی تعداد بڑھنا شروع ہوئی تو یہ کلاس بیت حسن اقبال (جامعہ احمدیہ ) میں منتقل ہو گئی۔بعد ازاں حافظ کل اس کو طبیہ کالج کی عمارت واقع دار النصر غربی میں منتقل کر دیا گیا۔