جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 233 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 233

233 مجلس مشاورت قرآن کریم نے مثالی اسلامی معاشرہ کا تصور پیش کرتے ہوئے جو مختلف راہنما اصول بیان فرمائے ہیں ان میں سے ایک باہمی مشورہ کا اصول بھی ہے۔جیسا کہ فرمایا:۔وَامْرُهُمْ شُوری بَيْنَهُمْ۔(سورۃ شوری ۳۹ ) اس مشورہ کے امر کو جماعت احمدیہ میں ایسے رنگ میں قائم کرنا جو صحیح دین حق کی اقدار کے عین مطابق ہو اور افراط و تفریط سے پاک ہو۔قیام جماعت احمدیہ کے اولین اغراض و مقاصد میں شامل ہے۔چنانچہ حضرت اقدس بانی سلسلہ اہم امور میں صائب الرائے احباب سے مشورہ لینے کی سنت پر ہمیشہ کار بند ر ہے۔اور وقتاً فوقتاً عند الضرورت کبھی انفرادی طور پر اور کبھی اجتماعی طور پر احباب جماعت سے مشورہ لینے کا انتظام فرمایا۔اجتماعی مشاورت کا یہ سلسلہ با قاعدہ سالانہ صورت میں جاری نہیں کیا گیا تھا۔بلکہ خلافت ثانیہ کے آغاز تک ایسی مجلس حسب ضرورت بلائی جاتی رہی۔لیکن ۱۹۲۲ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے پہلی مرتبہ با قاعدہ طور پر سالانہ مجلس مشاورت کا نظام قائم فرمایا۔مجلس شوری کا قیام خالصہ ایک مذہبی حیثیت رکھتا ہے۔اور دنیوی پارلیمینٹوں اور ہم شکل مجالس کو اس روحانی ادارے سے سوائے ظاہری مشابہت کے اور کوئی نسبت نہیں ہے۔مجلس شوری کی ضرورت بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے فرمایا:۔”سب سے پہلے میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ یہ مجلس جس کو پرانے نام کی وجہ سے کارکن کانفرنس کے نام سے یاد کرتے رہے ہیں۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا شیوہ یہ ہے وَأَمْرُهُمْ شُوری بَيْنَهُمُ اپنے معاملات میں مشورہ لے لیا کریں۔مشورہ بہت مفید اور ضروری چیز ہے اور بغیر اس کے کوئی مکمل نہیں ہوسکتا۔اس مجلس کی غرض کے متعلق مختصر الفاظ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایسی اغراض جن کا جماعت کے قیام اور ترقی سے گہرا تعلق ہے ان کے متعلق جماعت کے لوگوں کو جمع کر کے مشورہ لیا جائے تا کہ کام میں آسانی پیدا ہو جائے۔یا ان احباب کو ان ضروریات کا پتہ لگے جو جماعت سے لگی ہوئی ہیں تو یہ مجلس شوری ہے۔“ (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء ص ۴) مجلس مشاورت کا سال بھر میں ایک اجلاس ہوتا ہے جو عموماً مارچ یا اپریل میں منعقد ہوتی ہے۔اس میں تمام مقامی جماعتوں کے بذریعہ انتخاب منتخب ہونے والے نمائندے شامل ہوتے ہیں۔نمائندگان کی