جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 180 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 180

180 حضرت خلیفہ اسیح الخامس کے حالات و خدمات قبل از خلافت حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ امسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ۱۵ ستمبر ۱۹۵۰ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب مرحوم و محترمہ صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ سلمہا اللہ تعالیٰ کے ہاں ربوہ میں پیدا ہوئے۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پڑپوتے ،حضرت مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نواسے ہیں۔تعلیم الاسلام ہائی سکول سے میٹرک اور تعلیم الاسلام کا لج ربوہ سے بی اے کیا۔۱۹۶۷ء میں ساڑھے سترہ سال کی عمر میں نظام وصیت میں شمولیت فرمائی۔۱۹۷۶ء میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے ایم ایس سی کی ڈگری ایگریکلچرل اکنامکس میں حاصل کی۔۳۱ جنوری ۱۹۷۷ء کو آپ کی شادی مکرمہ سیدہ امتہ السبوح بیگم صاحبہ مدظلہا بنت محترمہ صاحبزادی امتہ الحکیم صاحبہ مرحومہ اہلیہ مکرم سید داؤ د مظفر شاہ صاحب سے ہوئی۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹی مکرمہ صاحبزادی امۃ الوارث فاتح سلمھا اللہ اہلیہ مکرم فاتح احمد ڈاہری صاحب نواب شاہ سندھ اور ایک بیٹے مکرم صاحبزادہ مرز اوقاص احمد سلمہ اللہ سے نوازا۔۱۹۷۷ء میں زندگی وقف کر کے نصرت جہاں سکیم کے تحت اگست ۱۹۷۷ء میں غانا تشریف لے گئے۔غانا میں ۱۹۷۷ء سے ۱۹۸۵ء تک بطور پرنسپل احمد یہ سیکنڈری سکول سلا گا ۲ سال، ایسار چر۴ سال اور پھر ۲ سال احمد یہ زرعی فارم ٹمالے شمالی غانا کے مینجر رہے۔آپ نے غانا میں پہلی بار گندم اگانے کا کامیاب تجربہ کیا۔۱۹۸۵ء میں پاکستان واپسی ہوئی اور تحریک جدید ربوہ ۷ امارچ ۱۹۸۵ء سے نائب وکیل المال ثانی کے طور پر تقرر ہوا۔۱۸ جون ۱۹۹۴ء کو آپ کا تقرر بطور ناظر تعلیم صدرانجمن احمد یہ میں ہو گیا۔• استمبر ۱۹۹۷ء کو آپ ناظر اعلیٰ صد را منجمن احمد یہ وامیر مقامی مقرر ہوئے اور تا انتخاب خلافت اس منصب جلیلہ پر مامور رہے۔اگست ۱۹۹۸ء میں صدر مجلس کار پرداز مقرر ہوئے۔بحیثیت ناظر اعلیٰ آپ ناظر زراعت کی خدمات بھی بجالاتے رہے۔۱۹۹۴ء سے ۱۹۹۷ ء تک چیئر مین ناصر فاؤنڈیشن رہے۔اسی عرصہ میں آپ صدر تزئین کمیٹی ربوہ بھی تھے۔آپ نے گلشن احمد نرسری کی توسیع اور ربوہ کی سرسبز و شاداب بنانے کے لئے ذاتی طور پر بے حد کوشش کی اور جملہ امور کی نگرانی فرمائی۔۱۹۸۸ ء سے ۱۹۹۵ء تک ممبر قضاء بورڈ رہے۔