جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 179
179 کر سکتا ہے خاکسار کو اس مقصد کے لئے ، اس کام کے لئے مقرر کیا ہے تو آپ سے درخواست ہے میری مدد فرما ئیں دعاؤں کے ذریعے۔نہایت عاجز انسان ہوں، دعاؤں کے بغیر یہ سلسلہ چلنے والا نہیں۔اللہ تعالیٰ مجھے بھی توفیق دے کہ آپ لوگوں کے لئے دعا کر سکوں۔جوعہد بھی کیا ہے اس پر پورا اتر سکوں اور آپ لوگوں سے بھی درخواست ہے کہ دعاؤں سے، دعاؤں سے، بہت دعاؤں سے میری مدد کریں۔اب حضرت خلیفہ اسیح الرابع کے الفاظ میں ہی ایک فقرہ اور کہتا ہوں کہ میری گردن اب خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔براہ راست خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔اللہ تعالیٰ مجھے محض اور محض اپنے فضل سے ان کاموں کو کرنے کی توفیق عطا فرمائے (الفضل ۵ دسمبر ۲۰۰۳ء) جواس کی رضا کے کام ہوں۔آمین۔حضرت خلیفہ ایسیح الخامس کا پہلا خطاب عام حضرت مرزا مسرور احمد صاحب خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے پہلی بیعت عام سے قبل مختصر سا خطاب فرمایا جو ایم ٹی اے کے ذریعہ براہ راست تمام دنیا میں نشر کیا گیا۔حضور نے تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔احباب جماعت سے صرف ایک درخواست ہے کہ آجکل دعاؤں پر زور دیں، دعاؤں پر زور دیں، دعاؤں پر زور دیں۔بہت دعائیں کریں، بہت دعائیں کریں بہت دعائیں کریں۔اللہ تعالیٰ اپنی تائید و نصرت فرمائے اور احمدیت کا یہ قافلہ اپنی ترقیات کی طرف رواں دواں رہے۔(آمین) (روز نامه الفضل مورخ ۱/۲۴ پریل ۲۰۰۳ء ) اس کے بعد حضور نے حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کی نماز جنازہ پڑھائی اور نماز جنازہ کے بعد ٹلفورڈ اسلام آباد لندن میں حضور کی امانیا تدفین عمل میں آئی۔یہ تمام کارروائی MTA کی برکت سے تمام دنیا نے براہ راست دیکھی اور سنی اور مذہب کی تاریخ میں یہ پہلی دفعہ نظارہ دیکھنے میں آیا کر تمام دنیا میں بسنے والے کروڑوں احمدیوں نے براہ راست کسی خلیفہ کی بیعت کی۔اس موقع پر حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ کے لئے آپ کے عظیم الشان کارنامہ ایم ٹی اے کی اہمیت و فیضان کے باعث آپ کے درجات کی بلندی کے لئے دل کی گہرائیوں سے دعائیں نکلیں۔اللهُمَّ اغْفِرُهُ وَارْحَمْهُ وَادْخِلُهُ فِي أَعْلَى عِلِييُنَ۔اس طرح تقدیر الہی کے مطابق ایک چاند غروب ہوا تو دوسرا چاند طلوع ہو گیا۔اور خلافت کا بابرکت سلسہ حسب سابق جاری وساری ہو گیا۔اللہ تعالیٰ خلافت احمدیہ کا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پر قائم رکھے۔اور اس کی برکات سے ہمیں کماحقہ مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)