جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 151 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 151

151 آپ کا استاد بنا چاہتا تھا اس لئے ظاہری تعلیم آپ حاصل ہی نہ کر سکے اور بعد میں اللہ تعالیٰ نے پیشگوئی کے مطابق خود آپ کو ظاہری و باطنی تعلیم دی۔چنانچہ دنیا نے دیکھ لیا کہ کسی علم میں بھی دنیا کا کوئی عالم آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں جب آپ ذرا بڑے ہوئے تو آپ کے دل میں خدمت دین کا خاص شوق پیدا ہو گیا۔چنانچہ آپ نے ایک انجمن تفعید الا ذہان“ کے نام سے قائم کی اور اس نام کا ایک رسالہ بھی جاری کیا اور اس طرح تحریری اور تقریری مشق کا سلسلہ شروع کر دیا۔جو جماعت کے لئے بہت مفید ثابت ہوا۔حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں ہی آپ کو حضرت خلیفہ اول نے اپنی خاص تربیت میں لے لیا۔چنانچہ قرآن شریف اور حدیثوں کی بعض کتابیں آپ نے حضرت مولوی صاحب سے پڑھیں اور آپ نے ان کی صحبت اور فیض سے بہت فائدہ اٹھایا۔۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو جب حضرت مسیح موعود وفات پاگئے۔اس وقت آپ انیس برس کے تھے۔آپ نے حضور کی نعش مبارک کے سرہانے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ سے یہ عظیم الشان عہد کیا کہ الہی اگر سارے لوگ بھی حضرت مسیح موعود کی جماعت کو چھوڑ دیں تو پھر بھی میں اپنے عہد پر قائم رہوں گا اور حضرت مسیح موعود جس مقصد کے لئے مبعوث ہوئے تھے اسے پورا کرنے کی کوشش کرتا رہوں گا۔اس عہد کے بعد ستاون برس تک حضور زندہ رہے۔آپ کی زندگی کا ایک ایک دن اس امر کا گواہ ہے کہ آپ نے جو عہد کیا تھا اسے کس شان سے پورا کر دکھایا۔۱۹۱۱ء میں آپ نے حضرت خلیفہ اول کی اجازت سے ایک انجمن انصار اللہ کے نام سے قائم فرمائی اور اس کے ذریعے تبلیغ و تربیت کے کئی کام کئے۔۱۹۱۲ ء میں آپ نے حج کیا۔۱۹۱۳ء میں اخبار الفضل“ جاری کیا۔حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں آپ نے کئی تبلیغی سفر بھی کئے۔جن میں آپ کی تقریروں کو لوگ خاص طور پر بہت پسند کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود کی وفات کے وقت آپ ابھی بچہ ہی تھے لیکن حضرت خلیفہ اول کی خلافت کے ابتدائی ایام میں ہی آپ نے جماعت میں پیدا ہونے والے اس فتنہ کے ابتدائی آثار کو بھانپ لیا تھا جو خلافت کے منکرین کی طرف سے بہت ہی آہستہ آہستہ ظاہر ہورہے تھے۔آپ کا یہ ایک عظیم الشان کارنامہ ہے کہ آپ کی باریک نظر نے آنے والے خطروں کو محسوس کر لیا اور معلوم کر لیا کہ یہ لوگ خلافت کے منکر ہو کر احمدیت کی خصوصیات اور برکات کو تباہ کر دینا چاہتے ہیں۔چنانچہ باوجود اس کے کہ آپ کی ان لوگوں کی طرف سے سخت مخالفت کی گئی مگر آپ صحیح راستہ پر ڈٹے رہے۔آپ نے بہادری کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ جماعت اس فتنہ سے بڑی حد تک بچی رہی۔حالانکہ یہ فتنہ پیدا کرنے والے لوگ وہ تھے جو کہ جماعت