جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 150 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 150

150 ہے۔جو ہوشیا پور میں چالیس روز تک چلہ کشی کرنے کے نتیجہ میں آپ نے خدا تعالیٰ سے پا کر مورخہ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کو اخبار ریاض ہند میں شائع فرمائی تھی۔جس میں آپ کے سوانح کا خاکہ آپ کی ولادت سے تین سال قبل اللہ جل شانہ نے اپنے ان الفاظ میں بیان فرما دیا تھا۔اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔وہ کلمتہ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت اور غیوری نے اسے اپنے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا اور وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ فرزند دلبند گرامی ارجمند - مظهر الاول والآخر۔مظهر الحق والعلا۔كان الله نزل من السماء جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔وہ جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔وکان امر امقضیا“۔اشتهار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء بحوالہ اخبار ریاض ہندا مرتسر مورخه ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء) حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے وجود میں یہ پیشگوئی اپنی پوری شان کے ساتھ پوری ہوئی۔پیشگوئی میں جو جو علامتیں بتائی گئی تھیں ہم سب گواہ ہیں کہ وہ سب پوری ہوگئیں۔الحمدللہ حضرت مسیح موعود نے آپ کی پیدائش پر ایک اشتہار شائع کیا جس میں آپ کی پیدائش کی خوشخبری دیتے ہوئے حضور نے دس شرائط بیعت کا اعلان فرمایا اور پھر کچھ عرصہ بعد۱۸۸۹ء میں ہی بمقام لدھیانہ پہلی بیعت کا آغاز کیا گیا۔گویا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی پیدائش اور جماعت احمدیہ کا آغاز ایک ہی وقت میں ہوئے۔جب حضرت خلیفہ ثانی تعلیم کی عمرکو پہنچے تو مقامی سکول میں آپ کو داخل کرا دیا گیا مگر طالب علمی کے زمانہ میں چونکہ آپ کی صحت خراب رہتی تھی اس لئے آپ کو تعلیم سے زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔یہی وجہ ہے کہ جب دسویں جماعت کے امتحان تک پہنچے جو کہ اس زمانہ میں یونیورسٹی کا پہلا امتحان تھا تو آپ فیل ہو گئے۔بس آپ نے سکول کی تعلیم یہاں تک حاصل کی۔تعلیم کے زمانہ میں جب آپ کے استاد حضرت مسیح موعود سے آپ کی تعلیمی حالت کا ذکر کرتے تو حضور فرمایا کرتے تھے کہ اس کی صحت اچھی نہیں ہے۔جتنا یہ شوق سے پڑھے اسے پڑھنے دو زیادہ زور نہ دو۔دراصل اس میں اللہ تعالیٰ کی خاص حکمت تھی۔اگر آپ تعلیم میں ہوشیار ہوتے اور ظاہری ڈگریاں حاصل کرتے تو لوگ خیال کرتے کہ آپ کی قابلیت شاید ان ڈگریوں کی وجہ سے ہے مگر اللہ تعالیٰ تو خود