جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 147
147 خلافت اولی کے شیریں ثمرات حضرت خلیفہ مسیح الاول کا ۶ سالہ بابرکت عہد خلافت اور آپ کے کار ہائے نمایاں تاریخ خلافت احمدیہ کا ایک بہت ہی دلکش، ایمان افروز اور سنہری باب ہے اور خلافت احمدیہ کی عظیم الشان اساس ہے۔آپ کا عہد خلافت سید نا حضرت ابوبکر صدیق کے عہد خلافت سے کمال مشابہت رکھتا ہے۔جس کی تفصیل میں جانا اس کتاب میں ممکن نہیں لہذا نمونہ کے طور پر چند جھلکیاں پیش خدمت ہیں۔حضرت خلیفہ اول کا زمانہ صحابہ کرام کے زمانہ کی یاد دلاتا تھا۔قرآن کریم ، حدیث شریف اور دوسرے دینی علوم کے پڑھنے کا جماعت میں ایک زبر دست ولولہ تھا۔جو بے نظیر عشق دین حضرت خلیفہ اول کے دل میں موجزن تھا اس نے اہل قادیان کے دلوں میں ایک چنگاری روشن کر رکھی تھی اور اس کا ایک زبر دست اثر بیرونجات کی جماعتوں پر بھی تھا۔قادیان اور قادیان سے باہر کے لوگ برابر دین کا علم سیکھنے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور یہ بات بالخصوص قادیان کی رونق اور نیک شہرت کا باعث تھی اور اس بات نے افراد جماعت میں دینداری، دیانتداری اور پرہیز گاری پیدا کر دی تھی۔حضرت خلیفہ اول اکثر فرمایا کرتے تھے کہ دین کا اثر ہمارے تمام معاملات میں نظر آنا چاہئے۔چنانچہ قادیان کے لوگوں میں خصوصاً اور باہر کی جماعتوں میں عموماً احکام دین کی پابندی کا بہت شوق تھا اور دوسری بات جس پر آپ بڑا زور دیا کرتے تھے وہ یہ تھی کہ ایک مسلمان ہر معاملہ کے متعلق جناب النبی میں گرے اور دعا کرتار ہے اور اس بات پر آپ زور دیتے کبھی تھکتے ہی نہ تھے۔جس کا نتیجہ یہ تھا کہ بڑے تو ایک طرف رہے چھوٹے بچے بھی رو رو کر دعائیں کرتے تھے اور جماعت میں عام طور پر یہ یقین تھا کہ مومنوں کی دعائیں خدا تعالی سنتا ہے اور اس ذریعہ سے ہر تکلیف دور ہو سکتی ہے۔(بحوالہ تاریخ احمدیت جلد ۳ ص ۲۰۲ ۶۰۳) دور خلافت اولی میں ترقیات کی چند جھلکیاں بیت المال کے مستقل صیغہ کا قیام۔( جون ۱۹۰۸ء) قادیان میں پہلی پبلک لائبریری کی بنیاد۔( جون ۱۹۰۸ء ) واعظین سلسلہ کا با قاعدہ تقر ر ( جولائی ۱۹۰۸ء) مدرسہ احمدیہ کی بنیاد ( یکم مارچ ۱۹۰۹ء)