جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 103
103 مسئلہ وحی والہام جماعت احمدیہ اور عام مسلمانوں کے درمیان جن مسائل کے بارہ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ان میں سے ایک ”وحی والہام کا مسئلہ ہے۔اس بارہ میں عام مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ آنحضرت عے کے بعد وحی والہام کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے۔اور اب قیامت تک خدا تعالیٰ کی اپنے پیاروں کے ساتھ ہمکلام ہونے کی صفت موقوف ہوگئی ہے۔اس کے برعکس جماعت احمدیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ: وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے کلیم اب بھی اس سے بولتا ہے جس سے وہ کرتا ہے پیار جماعت احمد یہ اپنے اس موقف کی تائید میں جو عقلی و نقلی دلائل پیش کرتی ہے ان میں چند دلائل پیش کئے جاتے ہیں :۔قرآن مجید۔وَإِذَ سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ۔(بقرہ:۱۷۸) فَلْيَسْتَجِيبُولِى وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُون۔ترجمہ:۔اور (اے رسول ) جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق پوچھیں ( تو تو جواب دے کہ ) میں (ان کے پاس ہی ہوں۔میں پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں۔سو چاہئے کہ وہ ( دعا کرنے والا بھی ) میرے حکم کو قبول کریں۔اور مجھ پر ایمان لائیں تا وہ ہدایت پائیں۔“ اس آیت کریمہ میں خدا تعالیٰ اپنی ہستی کی دلیل ہی اپنے کلام کو پیش کر رہا ہے۔اس کے بالمقابل قرآن کریم کے دوسرے کئی مقامات پر بتوں کا اس صفت سے عاری ہونا ان کے باطل ہونے کے ثبوت کے طور پر پیش کرتا ہے جیسا کہ ان آیات سے ظاہر ہے:۔ا۔لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَؤُلَاءِ يَنْطِقُونَ۔(انبياء : ٦٦) اور ان (مشرکین ) نے کہا کہ (اے ابراہیم ) تو تو جانتا ہے کہ یہ ( بت ) تو بولا نہیں کرتے۔۔٢ أَفَلا يَرَوْنَ أَلَّا يَرْجِعَ إِلَيْهِمُ قَوْلاً۔(طه :٩٠) مگر کیا وہ خود نہیں دیکھتے کہ وہ بچھڑا ان کی کسی بات کا جواب نہیں دیتا۔٣ - اَلَمْ يَرَوْا أَنَّهُ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا - (الاعراف: ۴۹)